السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ میں ترکی کے راستے سعودی عرب کے سفر کا منصوبہ بنا رہا ہوں، میں جدہ کے ہوائی اڈے پر اترنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور پھر ایک دن جدہ میں رہنے کے بعد مدینہ جاؤں گا، انشاء اللہ واپسی میں مسجد نبوی کی زیارت کے بعد ذوالحلیفہ جاؤں گا اور احرام باندھوں گا اور عمرہ کی نیت کروں گا۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ اس کے علاوہ عمرہ کے بعد میں اپنے رشتہ دار (جو جدہ کا رہائشی ہے) کے ساتھ جدہ میں 5 دن قیام کروں گا اور مزید عمرہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جدہ کے رہائشیوں کے لیے میقات ان کا گھر/جگہ ہے۔ تاہم میں اس بات کی تصدیق کرنا چاہتا ہوں کہ جدہ میں قیام کے دوران مسافر کا میقات کیا ہوگا؟ جدہ سے مسجد عائشہ کی طرف جاتے ہوئے مجھے حرم کی حدود میں داخل ہونا پڑے گا اور پھر مسجد عائشہ جانا پڑے گا، احرام کے بغیر حرم کی حدود میں داخل ہونے سے بچنے کا واحد راستہ جدہ سے الجمم اور پھر مسجد عائشہ جانا ہے، براہ کرم اس معاملے میں مشورہ دیں۔ جزاکم اللہ خیر۔
واضح ہوکہ مدینہ سے مکہ آنے والوں کے لئے میقات ذو الحلیفہ ہے، لہذا اگر سائل مکہ جانے سے قبل جدہ میں ایک دن رک کر مدینہ جانے کا ارادہ رکھتا ہو، تو ایسی صورت میں واپسی پر اس کے لئے ذوالحلیفہ سے احرام باندھنا شرعاً لازم ہوگا، جبکہ جدہ چونکہ حل میں واقع ہے، اور اہل حل کے لئے عمرہ کی میقات حدود حرم ہے، لہٰذا جدہ میں قیام کے دوران اگر دوبارہ عمرہ کا احرام باندھنا ہو تو اس کے لئے میقات جانا شرعاً لازم نہیں، بلکہ حدودِ حرم میں داخلہ سے پہلے مسجد عائشہ وغیرہ سے احرام باندھنا لازم ہوگا، تاہم اگر جدہ سے ہی احرام کی نیت کرلی جائے تو زیادہ بہتر رہے۔
کما فی صحیح البخاری: عن ابن عباس، قال: «إن النبي صلى الله عليه وسلم وقت لأهل المدينة ذا الحليفة، ولأهل الشأم الجحفة، ولأهل نجد قرن المنازل، ولأهل اليمن يلملم، هن لهن، ولمن أتى عليهن من غيرهن ممن أراد الحج والعمرة، ومن كان دون ذلك، فمن حيث أنشأ حتى أهل مكة من مكة» الحدیث (ج2 صـ134 باب مهل أهل مكة للحج والعمرة ط: دار طوق النجاۃ)۔
وفی الدر المختار: (وحرم تأخير الإحرام عنها) كلها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مكة) يعني الحرم (ولو لحاجة) غير الحج أما لو قصد موضعا من الحل كخليص وجدة حل له مجاوزته بلا إحرام فإذا حل به التحق بأهله فله دخول مكة بلا إحرام وهو الحيلة لمريد ذلك الخ (ج2 صـ476 کتاب الحج ط: دار الفکر)۔
وفیہ ایضاً: (و) الميقات (لمن بمكة) يعني من بداخل الحرم (للحج الحرم وللعمرة الحل) ليتحقق نوع سفر والتنعيم أفضل الخ(ج2 صـ78 کتاب الحج ط: دار الفکر)۔
وفی رد المحتار تحت: ( قولہ یعنی ) والمراد بالمكي من كان داخل الحرم سواء كان بمكة أو لا، وسواء كان من أهلها أو لا. اھ ( فصل فی المواقیت ج 2 ص 478 ط: سعید)۔