السلام علیکم !
میرا سوال یہ ہے کہ میں پہلی مرتبہ اپنی فیملی کے ساتھ پاکستان سے عمرہ پر جارہا ہوں، جیسا کہ ہم پاکستان سے احرام باندھیں گے، یہ سب عام معمول کے مطابق ہوگا، جدہ اور پھر مکہ پہنچنے کے بعد ہم عمرہ ادا کریں گے، لیکن اس کے بعد میرے والد جدہ میں مقیم ہیں، وہ وہاں رہتے ہیں، تو ہم ان کے پاس جائیں گے اور ان کے پاس مقیم ہوں گے، تو سوال یہ ہے کہ جدہ میں قیام کے بعد اگر ہم دوبارہ عمرہ ادا کرنا چاہیں تو کیا ہم جدہ سے احرام باندھ سکتے ہیں یا ہمیں احرام باندھنے میقات جانا ہوگا؟ جزاک اللہ
واضح ہو کہ جدہ چونکہ حل میں واقع ہے، لہٰذا جدہ میں قیام کے بعد اگر دوبارہ عمرہ کا احرام باندھنا ہو تو اس کے لئے میقات جانا شرعاً لازم نہیں، بلکہ حدودِ حرم میں داخلہ سے پہلے احرام باندھنا لازم ہوگا، تاہم اگر جدہ سے ہی احرام کی نیت کرلی جائے تو زیادہ بہتر رہے گا۔
کما فی الدر المختار: (وحرم تأخير الإحرام عنها) كلها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مكة) يعني الحرم (ولو لحاجة) غير الحج أما لو قصد موضعا من الحل كخليص وجدة حل له مجاوزته بلا إحرام فإذا حل به التحق بأهله فله دخول مكة بلا إحرام وهو الحيلة لمريد ذلك الخ
وفیہ ایضاً: (و) الميقات (لمن بمكة) يعني من بداخل الحرم (للحج الحرم وللعمرة الحل) ليتحقق نوع سفر والتنعيم أفضل الخ
وفی رد المحتار تحت: ( قولہ یعنی ) والمراد بالمكي من كان داخل الحرم سواء كان بمكة أو لا، وسواء كان من أهلها أو لا. اھ ( فصل فی المواقیت ج 2 ص 477 ط: سعید)۔