عمرہ کے احرام میں چہرے پر کپڑا لگا رہے نقاب کی صورت میں تو دم دینا ہوگا؟ اور دم مکہ میں دیں یا واپس جاکر دیں؟ اور کتنا دم دینا ہوتا ہے؟
سائلہ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ حالتِ احرام میں کتنی دیر تک چہرے پر نقاب لگا رہا، تاکہ اس کے مطابق ہی جواب دیا جاتا، تاہم اگر حالتِ احرام میں چہرے پر نقاب ایک گھنٹے سے کم کم لگا ہو تو اس پر ایک مٹھی برابر گندم صدقہ کرنا لازم ہے، البتہ اگر ایک گھنٹہ یا اس سے زائد لگا ہو، لیکن پورے ایک دن یا پوری ایک رات سے کم کم لگا ہو تو ایسی صورت میں اس پر صدقہ (پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت) لازم ہے۔ اور اگر چہرے پر نقاب ”ایک دن یا ایک رات یا اس سے زیادہ“ لگا ہو تو ایسی صورت میں اس پر دم لازم ہوگا۔
جبکہ دم کی تفصیل یہ ہے کہ حدودِ حرم کے اندر ایک سال کا بکرا یا ایک سال کی بکری ذبح کی جائے اور اس کا گوشت فقراء پر تقسیم کیا جائے۔ حدودِ حرم سے باہر ذبح کرنا معتبر نہ ہوگا۔
ففي غنية الناسك: وليس للمرأة أن تنتقب وتغطي وجهها، فان فعلت يوما فعليها دم، وفي الأقل صدقة، ولو فعلت ذلك لضرورة تخير في الكفارة، ولو تلثمت يوما أو ليلة فعليها دم، والا فصدقة، ولو تستر وجهها وتكشفه أخرى وهكذا تفعل في كل مرة أقل من ساعة فَلَكِية فعليها لكل مرة قبضة من طعام (ضياء الأبصار) والله أعلم الخ (398)
وفي الدر المختار: (أو ستر رأسه) بمعتاد إما بحمل إجانة أو عدل فلا شيء عليه (يوما كاملا) أو ليلة كاملة، وفي الأقل صدقة الخ (2/ 547)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله أو ستر رأسه) أي كله أو ربعه، ومثله الوجه كما يأتي الخ (2/ 547)
وفي المبسوط للسرخسي: وكذلك كل دم وجب عليه بطريق الكفارة في شيء من أمر الحج أو العمرة فإنه لا يجزئه ذبحه إلا في الحرم، وعليه التصدق بلحمه بعد الذبح على فقراء الحرم، وإن تصدق على غيرهم من الفقراء أجزأه عندنا؛ لأن الصدقة على كل فقير قربة الخ (4/ 75)