کیا ایک سفر میں ایک ھی احرام سے ایک سے زیادہ عمرے ادا کر سکتے ھیں
واضح کہ احرام محض دو چادروں کے باندھ لینے کا نام نہیں ہے بلکہ حج یا عمرے کی نیت کرنے اورتلبیہ پڑھ لینے سے آدمی احرام میں داخل ہو جا تا ہے،اور جب تک محرم افعال حج یا عمرہ کی ادائیگی نہیں کرتا، اس وقت تک وہ احرام میں ہی رہتاہے،اور افعال حج یا عمرے مکمل کرکے حلق یاقصر کرنے کے بعد احرام کی پابندی ختم ہوکرمحرم حلال ہوجاتاہے، جبکہ دوبارہ عمرہ کرنے کے لیےباقاعدہ مسجد عائشہ یا مقام جعرانہ جاکر دوبارہ مستقل احرام باندھنا ضروری ہے، اس لیے ایک ہی احرام میں متعدد عمرے کرنا شرعادرست نہیں۔
البتہ اگرسائل کی سوال کا منشاء یہ ہو کہ احرام کی ان مخصوص چادروں ؐمیں ایک سے زائد عمرے کیے جاسکتے ہیں یا نہیں؟ تو ان ہی چادروں کے ساتھ ایک سے زائدمرتبہ احرام باندھ کرمتعددعمرے کرنابلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی البحر العمیق:
یجب ان یعلم ان الجمع بین احرامی الحج او احرامی العمرۃ بدعۃ بالاتفاق بین اصحابنا
وفی الجامع الصغیر للعتابی حرام؛ لانہ من اکبر الکبائر ھکذا روی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔۔۔فی المحیط ولا جمع بین احرامی العمرۃ مکروہ۔۔۔۔۔وقال رجل فرغ من عمرتہ الا التقصیر فاحرم باخری فعلیہ دم۔(ج:2 ص:778، 784 الباب السابع فی الاحرام)