میں سعودی عرب میں چار سال سے مقیم ہوں اور حج سے پندرہ دن پہلے کام کے سلسلے میں مکہ میں ہوں ، حج کا ارادہ رکھتا ہوں ،اس کے لیے آپ کی مدد کی ضرورت ہے ،مجھے حج کے لیے احرام باندھنے کے لیے مکہ سے باہر جانا ہوگا یا مکہ سے احرام باندھا جائے گا؟حج کے لیے عمرہ آٹھ (8) ذوالحجہ کو ہی کرنا پڑےگایا اس سے پہلے؟ براہِ مہربانی مدد کریں ۔
سائل اگر حج کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے بعد آٹھ (۸) ذو الحجہ سے پہلے پہلے عمرہ ادا کرلے،کیونکہ آٹھ ذوالجہ سے ایامِ حج شروع ہو جاتے ہیں، جبکہ حج کا احرام مکہ مکرمہ ہی سے باندھا جاتا ہے ، اس کے لیے باہر جانے کی ضرورت نہیں ۔
کما فی الدر المختار : (و) الميقات (لمن بمكة) يعني من بداخل الحرم (للحج الحرم وللعمرة الحل) ليتحقق نوع سفر اھ (2/478)۔
و فیه أیضاً : (وكرهت) تحريما (يوم عرفة وأربعة بعدها) أي كره إنشاؤها بالإحرام حتى يلزمه دم وإن رفضها لا أداؤها فيها بالإحرام السابق اھ (2/473)۔
و فی الہندیة: (ووقتها) جميع السنة إلا خمسة أيام تكره فيها العمرة لغير القارن كذا في فتاوى قاضي خان وهي يوم عرفة ويوم النحر وأيام التشريق والأظهر من المذهب ما ذكرنا اھ (1/237)۔