(1) میرا مستقبل میں عمرہ ادا کرنے کا ارادہ ہے، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا عمرہ ادا کرنے کے بعد سر کا حلق کرانے کے بجائے میرے لیے قصر کرانا درست ہوگا ؟( 2) اگر میں ایک ہی سفر میں بہت سے عمرے ادا کرنا چاہوں تو کیا ہر عمرے میں قصر کرانا ہوگا ؟(3) میرے بال نہاتے یا وضو کرتے وقت خشکی کی وجہ سے بہت زیادہ گر جاتے ہیں تو جب میں احرام کی حالت میں ہوں اور میرے بال گرتے ہوں تو کیا مجھے دم ادا کرنا ہو گا ؟
عمرہ کے بعد حلق کرنا لازم نہیں ، بلکہ قصر بھی کر سکتے ہیں ،جبکہ ایک سفر میں کئی عمرے کرنا بھی جائز ہے ، ہر عمرہ کے بعد حلق یا قصر کرانا واجب ہے ، احرام کی حالت میں از خود سر اور داڑھی کے بال ٹوٹ کر گر جائیں، تو اس کی وجہ سے کوئی دم وغیرہ لازم نہیں آتا ۔
کما فی الدر : (والعمرة) فی العمر (مرة سنة مؤكدة) على المذهب وصحح فی الجوهرة وجوبها.قلنا المأمور به فی الآية الإتمام وذلك بعد الشروع وبه نقول (وهي إحرام وطواف وسعي) وحلق أو تقصير فالإحرام شرط، ومعظم الطواف ركن اھ (2/472)۔
وفی الرد تحت : (قوله ليتحقق نوع سفر) لأن أداء الحج فی عرفة، وهي فی الحل فی كونإحرام المكي بالحج من الحرم ليتحقق له نوع سفر بتبدل المكان، وأداء العمرة فی الحرم فی كون إحرامه بها من الحل ليتحقق له نوع من السفر 2/478)۔