بخدمت جناب مفتی صاحب السلام علیکم! سلام کے بعد عرض یہ ہے کہ میں امجد منیر ولد بخت منیر ، میرا مسئلہ جو چار سال سے چل رہا ہے، مسئلہ مندرجہ ذیل ہے کہ میری گھر والی جو چار سال پہلے اپنی امی کے گھر گئی ، کسی بات کو لے کر یعنی ناراض ہو کر اس کے بعد جرگہ ہوا، لیکن کچھ بات نہیں بنی، پھر ایک سال بعد میرے گھر پر نوٹس آیا سٹی کورٹ سے، میں گیا، کیس چلا یا ، کیس خلع کا تھا، اس کے علاوہ زوجیت کا اور بچوں کی کسٹڈی کا کیس کیا، گھر والی نے جو خلع کا کیس کیا تھا ، اس میں جج صاحبہ نے سامان واپس کرنے کا آرڈر اور بچوں کا خرچہ میرے اوپر ڈال دیا ، خیر وہ سامان لے گئی اور میں بچوں کا خرچہ جمع کرنے لگا، کیس چلتا گیا ، جو زوجیت کا کیس میں نے کیا تھا ، اس میں بھی میری گھر والی نہیں مانی اور خلع کی درخواست جمع کروائی، ابھی بچوں کے کیس میں فیصلہ باقی تھا ،اس سے پہلے میں نے خرچہ بند کر دیا، کیونکہ میں تھک گیا تھا ،مفتی صاحب! ابھی جرگے والوں کا کہنا ہے کہ وہ لوگ بتا رہے ہیں کہ طلاق ہو گئی ہے، اگر نہیں ہوئی تو ہم صلح کر لیتے ،ابھی آپ بتائیں دینِ اسلام کے دائرے میں کہ چار سال سے ہم ملے نہیں ہیں، نکاح میں کوئی فرق آیا ہے یا نہیں؟ اگر آیا ہے تو کیا کرنا چاہیے ؟ نہیں آیا تو کیا کرنا چاہیے کہ ہمارا گھر بس جائے۔
نوٹ ! عدالت سے خلع کی ڈگری بیوی کو ملی ہے، جس میں شوہر نے خلع دینے سے انکار کر دیا تھا۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کے لئے میاں بیوی کی باہمی رضا مندی سے باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، جو عموماً عدالتی یکطرفہ خلع میں مفقود ہوتا ہے، نیز شوہر کی طرف سے طلاق یا خلع دیئے بغیر محض میاں بیوی کے علیحدہ رہنے سے از خود نکاح ختم نہیں ہوتا، لہٰذا اگر سائل نے خلع پر رضامندی کا اظہار نہ کیا ہو، بلکہ سائل کی بیوی نے سائل کی اجازت و رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کی ہو تو اس سے شرعاً سائل کا نکاح ختم نہیں ہوا، اسی طرح عرصہ چار سال سے الگ رہنے کی وجہ سے بھی شرعاً نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا، بلکہ دونوں میاں بیوی کا نکاح برقرار ہے، لہٰذا دونوں کے لئے حسب سابق میاں بیوی کی طرح رہنا شرعاً جائز اور درست ہے۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع ( الی قولہ ) وکیف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها الخ ( ج 3 ص 153 )۔