جناب یہ ایک تحریر ہے جو میں نے لکھ کر دی ہے اس تحریر کے حوالے سے قرآن اور سنت کی روشنی میں فتوہ درکار ہے۔ عنایت فرما کرشکریہ کا موقع عطا کریں۔
تحریر یہ ہے:
حلف نامہ / اقرار نامہ
منکہ مسمی عبدالرزاق خان ولد رستم علی خان ساکن، بنیاں تحصیل و ضلع مظفر آباد ۔
بقائمی ہوش حواس خمسہ بغیر کسی جبر واکراہ واجبار غیر لکھ دیتاہوں :
1۔یہ کہ من مظہر کی دختر ثمینہ رزاق کے فعل ارتکاب (کہ والدین کی مرضی واجازت کے بغیر اپنےہی خاندان کےایک لڑکے سےکورٹ میرج کیاتھا) کے بعد حقیقی بھائیوں محمد عارف، واجد علی خان، محمد آفتاب خان را جا محمد الطاف خان پسران رستم علی خان نے کراچی سے اپنے آبائی گاؤں بنیاں طلب کیا دختر کے معاملے میں بحث کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ دختر کے اس فعل میں من مظہر کے سسرالی رشتہ دار اور ان کی اولا دیں اور دختر اول برابر کے شریک ہیں۔ جس کی وجہ سے من مظہر کے سسرالی رشتہ داروں کے اس فعل کے باعث بحیثیت رشتہ دارا کھٹے زندگی نہیں گزار سکتے ہیں۔ اس سے لا تعلقی بائیکاٹ ناگزیر ہے۔
2۔یہ کہ من مظہر اقرار کرتا ہے کہ آج کے بعد ان سے نا من مظہر کوئی تعلق رکھے گا اور نہ ہی من مظہر کی اہلیہ پسر ان ان سے تعلق رکھیں گے۔ یہ کہ من مظہر سمیت ان رشتہ داروں سے بائیکاٹ اور لا تعلقی کا اعلان کرتا ہے۔ اور یہ کہ آج کے بعد من مظہر کی اہلیہ بھائیوں بہنوں اور ان کی اولادوں سے تعلق یا رابطہ قائم کرے یا پسر ان کریں گے تو اہلیہ طلاق تصور ہوگی ۔ پسران حکم عدول اور نا فرمان تصور ہوں گے۔ اور اپنے خاندان سے باہر تصور کئے جائیں گے۔
سوالات:
(1) کیا یہ تحریر اسلامی نقطہ نظر سے قابل عمل ہے؟
(۲) قطع تعلق یا بائیکاٹ کن رشتہ داروں سے کرنے کی گنجائش ہے۔ اور کون سے رشتے داروں سے نہیں کیا جاسکتا ؟ (چونکہ میرا سسرالی رشتہ داروں سے بائیکاٹ ہے جن میں میری حقیقی دختر بھی شامل ہے )۔
(۳) اس تحریر کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں اہلیہ طلاق ہو جائے گی اور اولاد نا فرمان تصور ہوگی؟
(۴) چونکہ میں اپنی اہلیہ اور اولاد سمیت اس تحریر پر عمل درآمد کر رہا ہوں تا ہم میں نے مختلف علماء دین کو سنا ہے جن کے کہنے کے مطابق پرعمل اور قطع تعلق اور بائیکاٹ کرنا گناہ ہے ۔ اب اگر میں اور میری بیوی ،بچے ہم اپنی بیٹی سے صلح کر کے تعلق رکھنا چاہیں تو ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
نوٹ :یہ جوتحر یرلکھی گئی ہے یہ ہم پانچ بھائیوں کے درمیان لکھی گئی ہے اس میں کوئی شخص شامل نہیں ہے۔
واضح ہو کہ جوان لڑکے لڑکی کا والدین اور اولیاء کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا انتہائی نامناسب عمل ہے اور ہمارے عرف میں اسے سخت معیوب اور حیاء کے خلاف سمجھا جاتا ہے،لہذا سائل اور اسکے دیگر بھائیوں نے اگر بیٹی کےاس غلط طرز عمل والدین کی نافرمانی اور حکم عدولی کے بعد تنبیہ اور اصلاح کی غرض سے اس سے عارضی طور پر قطع تعلق کیا ہو تو شرعاً اس کی گنجائش تھی ،تاہم اگر سائل کی بیٹی اپنے کئے پر پشمان ہو سائل اور اہل خانہ سے معافی تلافی کرکےصلح کرنا چاہتی ہو ،تو ایسی صورت میں سائل ،سائل کے دیگر بھائیوں اور اہل خانہ کو چاہیئے کہ یہ بائیکاٹ اور قطع تعلق ختم کرکے بیٹی کو معاف کردیں ،تاہم اگر سائل کی اہلیہ اور اولاد بھی اس صلح میں شامل ہو اور وہ سسرالی رشتہ داروں سے تعلق اور رابطہ قائم کرے تو اس سے سائل کی بیوی پر معلق ایک طلاق رجعی واقع ہوگی، جس کے بعد دوران عدت سائل کو رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے،چنانچہ اگر سائل دوران عدت قولا(میں رجوع کرتا ہوں جیسے الفاظ کہہ کر )یا عملا (بوس وکنار یا میاں بیوی والا تعلق قائم کرکے)رجوع کرلیتا ہے ،تو ایسا کرنے سے میاں وبیوی کا نکاح حسب سابق بر قراررہے گا، مگر آئندہ کے لئے سائل کو فقط دو طلاق کا اختیار ہوگا ، اس لئے آئندہ طلاق کےمعاملہ میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
کما قال اللہ تعالی: وَٱلَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهۡدَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ مِيثَٰقِهِۦ وَيَقۡطَعُونَ مَآ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ وَيُفۡسِدُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمُ ٱللَّعۡنَةُ وَلَهُمۡ سُوٓءُ ٱلدَّارِ الایۃ(الرعد،آیۃ26)۔
وفی احکام القرآن للجصاص: باب بر الوالدین. قال اللہ تعالی واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا وبالوالدین إحسانا، فقرن تعالی ذکرہ إلزام بر الوالدین بعبادتہ وتوحیدہ وأمر بہ کما أمر بہما، کما قرن شکرہما بشکرہ فی قولہ تعالی: أن اشکر لی ولوالدین إلی المصیر، وکفی بذلک دلالۃ علی تعظیم حقہما ووجوب برہما والإحسان إلیہما (إلی قولہ) قال أبوبکر: فطاعۃ الوالدین واجبۃ فی المعروف لا فی معصیۃ اللہ، فإنہ لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق الخ (ج3 ص155)۔
وفی صحیح مسلم:ان جبیر بن مطعم اخبرہ:انہ سمع النبیﷺیقول: لا يدخل الجنة قاطع رحم الحدیث(رقم الحدیث:2556)۔
وفی الدر المختار: (وصلة الرحم واجبة ولو) كانت (بسلام وتحية وهدية) ومعاونة ومجالسة ومكالمة وتلطف وإحسان ويزورهم غبا ليزيد حبا بل يزور أقرباءه كل جمعة أو شهر ولا يرد حاجتهم لأنه من القطيعة في الحديث «إن الله يصل من وصل رحمه ويقطع من قطعها» وفي الحديث «صلة الرحم تزيد في العمر» الخ(ج6 ص411)۔
وفی رد المحتار:تحت(قوله وصلة الرحم واجبة) نقل القرطبي في تفسيره اتفاق الأمة على وجوب صلتها وحرمة قطعها للأدلة القطعية من الكتاب والسنة على ذلك قال في تبيين المحارم: واختلفوا في الرحم التي يجب صلتها قال قوم: هي قرابة كل ذي رحم محرم وقال آخرون. كل قريب محرما كان أو غيره اهـ والثاني ظاهر إطلاق المتن قال النووي في شرح مسلم: وهو الصواب واستدل عليه بالأحاديث. نعم تتفاوت درجاتها ففي الوالدين أشد من المحارم، وفيهم أشد من بقية الأرحام وفي الأحاديث إشارة إلى ذلك كما بينه في تبيين المحارم (قوله ولو كانت بسلام إلخ) قال في تبيين المحارم: وإن كان غائبا يصلهم بالمكتوب إليهم، فإن قدر على المسير إليهم كان أفضل وإن كان له والدان لا يكفي المكتوب إن أرادا مجيئه وكذا إن احتاجا إلى خدمته، والأخ الكبير كالأب بعده وكذا الجد وإن علا والأخت الكبيرة والخالة كالأم في الصلة، وقيل العم مثل الأب وما عدل هؤلاء تكفي صلتهم بالمكتوب أو الهدية الخ(ج6 ص411)۔
وفی الھدایۃ: الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي الخ(باب ایقاع الطلاق،ج 2،ص 61،ط: انعامیہ)۔
وفی الھندیۃ: (وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن الخ(ج 1،ص 348)۔
وفی الدر المختار: وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطإ (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس ولو منها اختلاسا، أو نائما، أو مكرها أو مجنونا، أو معتوها إن صدقها هو أو ورثته بعد موته جوهرة الخ(ج3 ص398)۔