السلام علیکم !میرا سوال بچے کے نام کے متعلق ہے، میں نےاپنے بیٹے کا نام "ارزم (urzam)"رکھا ہے ،مجھے اس نام کا اصل معنی اور اس کے جائز ہونے کیلئے فتوی چاہیئےکہ کیا میں یہ نام رکھ سکتا ہو ں؟اور اگر نہیں تو U سے نام تجویز کردیں،جزاک اللہ۔
واضح ہو کہ "ارزم(URZAM)"الف کے ضمہ(پیش)کے ساتھ عربی لغات میں تلاش کے باوجود یہ لفظ نہیں ملا،البتہ "ارزام"الف کے کسرہ(زیر)کے ساتھ موجود ہے جس کا معنی ہے"آواز نکلنا "،لہذاسائل کو چاہیئے کہ اپنے بیٹے کیلئے مذکور نام کے بجائے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے ناموں سے کسی نام کا انتخاب کرے،جیساکہ"عمر،عثمان،عبادہ"وغیرہ۔
کما فی تاج العروس: (و) من المَجازِ: (أَرزمَ الرعدُ) إِرْزاماً: (اشتَدَّ صوتُه، أَو صَوْت غَيْر شَدِيد) ، مَأْخُوذ من إرزام النَّاقة. قَالَ: (وَعَشِيَّةٍ مُتجاوِبٍ إِرزامُها … )الخ(ج32 ص248)۔
و فی الھندیۃ: وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط الخ(ج5 ص362)۔