14 سال ہوگئے شادی کو، میرے میاں کوئی بھی ذمہ داری اٹھانے کے لئے تیار نہیں، میں ہمیشہ سے اپنے والدین کے ہاں رہتی ہوں اور میرے میاں ملک سے باہر ہیں، میں نے ساری زندگی اکیلے گزاری ہے، گنتی کے 2 سال شوہر کے ساتھ گزارے ہیں، بہت سال ہوگئے نہ وہ خرچہ بھیجتے ہیں اور نہ ملک واپس آتے ہیں اور نہ ہی فون پر بات کرتے ہیں، اس صورت میں میرے لیے کیاحکم ہے؟ کیا میرا نکاح فسخ ہوسکتا ہے ان وجوہات کی بنا پر ؟ براہ مہربانی میری مدد کریں، میں اکیلی رہتی ہوں اپنے بچوں کے ساتھ، والدین بھی ملک سے باہر چلے گئے، میں اب دوسری شادی کرنا چاہتی ہوں، 14 سال میں نے صبر کیا ابھی میری عمر اتنی نہیں ہے، بچے بھی بڑے ہوگئے ہیں، میں چاہتی ہوں کہ میں دوسری شادی کرلوں اس فتنے کے دور میں، براہ مہربانی میرے لیے اکیلے سب کچھ سنبھالنا اب مشکل ہوگیا ہے، میری مدد کریں آپ کے جواب کی منتظر رہوں گی۔
واضح ہو کہ اسلام نے بیوی اور نابالغ بچوں کے نان و نفقہ کی ذمہ داری شوہر پر عائد کی ہے ، اس لئےصورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہرکو چاہیے کہ وہ بیوی اور بچوں کا نان و نفقہ ادا کرے ، بصورتِ دیگر بیوی اپنے شوہر کے خلاف نان و نفقہ ادانہ کرنے کی بنیاد پر قانونی چارہ جوئی کا بھی حق رکھتی ہے، لیکن اس کی وجہ سے اس سے علیحدگی اختیار کرنے میں جلد بازی اختیار کرنے کے بجائےخاندان کے معزز اور باثر افراد کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاہم اگر کوشش کے باوجود بھی وہ اپنی ذمہ داری پورا کرنے کے لئے آمادہ نہ ہو تو اس سے طلاق یا خلع کے ذریعے علیحدگی اختیار کرنے میں بھی حرج نہیں، لیکن اگر شوہر نہ طلاق دینے پر آمادہ ہو اور نہ بیوی بچوں کا نان و نفقہ اوردیگر حقوق بھی ادا کرے تو ایسی صورت میں شوہر حکماً متعنت شمار ہو گا، لہذا ایسی مجبوری میں سائلہ کو نان و نفقہ نہ دینے اور حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کی بنیاد پر بذریعہ قضاء قاضی فسخ نکاح کا حق حاصل ہو گا۔
جس کا طریقہ یہ ہے کہ سائلہ اپنا مقدمہ مسلمان حاکم (حج) کے سامنے پیش کرے اور جس کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہو، وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعے پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو جائے تو اس کے خاوند سے کہا جاوے کہ اپنا گھر بسا کر بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو ، ورنہ ہم تفریق کر دیں گے، اس کے باوجود اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل کرنے کو تیار نہ ہو تو بغیر کسی انتظار و مہلت کے قاضی اس کا قائم مقام بن کر اس کی بیوی پر طلاق واقع کر دے، چنانچہ ایسا کرنے سے اس عورت پر ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور وہ عورت عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح بھی کر سکے گی، اور عدت کی ابتدا قاضی کے فیصلہ کے دن سے ہو گی۔ یاد رہے کہ عدالت میں جو مقدمہ دائر کیا جائے، وہ شوہر کے تعنت کی بنیاد پر " تنسیخِ نکاح “ کا مقدمہ دائر کیا جائے، خلع کا مقدمہ دائر نہ کیا جائے اور نہ ہی خلع کا طریقہ کار اختیار کیا جائے ، ورنہ فسخِ نکاح معتبر نہ ہوگا۔
جبکہ عورت کے پاس اپنا دعوی ثابت کرنے کیلئے اگر گواہ بھی نہ ہوں تو ایسی صورت میں چونکہ شوہر سے قسم لی جاتی ہے، لیکن اگر وہ عدالت میں حاضر ہی نہ ہوتو شوہر کے پاس بار بار " تنسیخ نکاح کا نوٹس پہنچنے کے باوجود اس کا عدالت میں حاضر نہ ہونا حکماً " نکول عن الیمین "شمارہو گا، اور اس کے خلاف قاضی کا فیصلہ شرعاً بھی معتبر ہوگا۔
كما في احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع الى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها الخ (153/3)۔
وفی حیلۃ الناجزۃ للحلیلۃ العاجزۃ: واما المتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ: ان منعھا نفقۃ الحال فلھا القیام فان لم یثبت عسرہ انفق أو طلق،والا طلق علیہ،قال محشیہ ای طلق علیہ الحاکم من غیر تلوم اھ(73)۔