السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!میں دو چیزیں جاننا چاہتا ہوں
1۔ کیا وضو کرنے کے بعد لپ اسٹک لگا کر نماز پڑھ سکتے ہیں؟
2. کریڈٹ کارڈ سے پچاس ہزار روپے ادا کرنے کے بعد قسطوں میں رقم کی واپسی کی صورت میں %5اضافی ادا کرنا ہوتا ہے، اس سلسلے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ قانونی ہوگا یا نہیں؟
(1)اگر وضو کے بعد لگائی جانےوالی لیپ اسٹک میں ناپاک اجزاء کی امیزش کا یقین یا ظن غالب نہ ہو تو اس کے ہوتے ہوئے صحت نماز پر کوئی اثر نہیں پڑےگا، البتہ وضو سے پہلے لگانے کی صورت میں اگر ہونٹوں پر اس کی تہہ جم جاتی ہوجو جسم تک پانی پہنچنے میں رکاوٹ بن رہی ہو تواسے چھڑا کر وضو کرنا ضروری ہوگا،ورنہ نماز درست اداء نہ ہوگی ۔
(2) واضح ہو کہ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے خریداری کرتے ہوئے واجب الاداءرقم کی ادائیگی میں تاخیرکی وجہ سے اضافی رقم دینا (اگر چہ حسب معاہدہ قانونی طورپر ضروری ہو)بلاشبہ سود کے زمرے میں داخل ہے ،اسلئے بامر مجبوری کریڈٹ کارڈ بنوا کر استعمال کرنے کی صورت میں واجب الاداءرقم کی بروقت ادائیگی لازم ہے،تاکہ ادائیگی سود کی نوبت نہ آئے،اور بلا کسی سخت ضرورت کے بینک سے کریڈٹ کارڈ حاصل کرنے سےاجتناب لازم ہے۔
(1)کمافی الدر المختار: (ولا يمنع) الطهارة (ونيم) أي خرء ذباب وبرغوث لم يصل الماء تحته (وحناء) ولو جرمه به يفتى (ودرن ووسخ) عطف تفسير وكذا دهن ودسومة (وتراب) وطين ولو (في ظفر مطلقا) أي قرويا أو مدنيا في الأصح بخلاف نحو عجين. اھ (1/ 154)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: بخلاف نحو عجين) أي كعلك وشمع وقشر سمك وخبز ممضوغ متلبد اھ (1/ 154)
(2)و في الدر المختار : وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن ( فصل في القرض، ج 5، ص 166، ط : سعيد)-
و في رد المحتار : تحت (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به (إلى قوله) وتعقبه الحموي بأن ما كان ربا لا يظهر فيه فرق بين الديانة والقضاء على أنه لا حاجة إلى التوفيق بعد الفتوى على ما تقدم أي من أنه يباح ( مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج 5، ص 166، ط : سعيد)-
مسجد میں فضائلِ اعمال کی تعلیم اور درسِ قرآ ن کے سلسلے میں تقابل و ٹکراؤ کی فضا بنانا
یونیکوڈ متفرقات 0