ہم مکمل فیملی عمرہ کےلئے احرام باندھ کر مدینہ سے مکہ جارہے تھے کہ گاڑی کو حادثہ پیش آگیا۔ جسکے بعد مرد اور خواتین کے کپڑے اور احرام خون آلود ہوگئے ۔ ہمیں مختلف اسپتالوں میں ایڈمٹ کرلیا گیا جہاں جسمانی بیکنگ اور ٹیسٹ کے دوران ہمارے احرام ڈاکٹرز نے کھول دئیے۔چوبیس گھنٹے اسپتالوں میں گزارنے کے بعد ہمیں ہمارے ایک عزیز کے گھر واپس مدینہ منتقل کردیا گیا جہاں ابھی تکلیف کی وجہ سے عمرہ نہیں کرسکتے ہیں، لیکن ممکنہ طور پر ایک ہفتے میں مکمل صحت یاب ہو جائیں گے ۔
کیا اب ہمیں دم دینا ہوگا ؟ اور دوبار ہ عمرہ کےلئے کیا کرنا ہوگا؟
میری فیملی میں ۔ میں واحد بندہ ہوں جس نے پہلے عمرہ کیا ہے، باقی سب پہلی بار کررہے ہیں۔براہ مہربانی جلد ہمیں راہنمائی فرمائیں تاکہ ہم عمرے پر جاسکیں۔
واضح ہوکہ احرام باندھنے کے بعد اگر محرم کسی عذر یا بیماری کی وجہ سے عمرہ یا حج کرنے سے عاجز آجائے تو احرام سے نکلنے کےلیے حرم میں ایک بکرا بطورِ دم قربانی کرنا لازم ہوتا ہے ، اس کے بغیر محرم ہی شمار ہوگا ۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل اور اس کے اہل خانہ صرف احرام کی چادریں اترنے کی وجہ سے احرام سے نہیں نکلیں گے، بلکہ احرام سے نکلنے کے لیے ان پر لازم ہے کہ حدودِ حرم میں ہر ایک فرد کی جانب سے ایک دم بھیج دیں جس کے ذبح کرنے کے بعد وہ احرام سے نکل جائیں گے، جبکہ صحت اور تندرستی حاصل ہونے کے بعد سائل اور اس کے اہل خانہ پر اس عمرہ کی قضاء لازم ہوگی ۔
کما فی الدر المختار : هو لغة: المنع. وشرعا: منع عن ركن (إذا أحصر بعدو أو مرض) أو موت محرم أو هلاك نفقة حل له التحلل فحينئذ (بعث المفرد دما) أو قيمته، فإن لم يجد بقي محرما حتى يجد أو يتحلل بطواف اھ
و فی رد المحتار تحت ( قولہ أو مرض ) أی یزداد بالذھاب ( قولہ أو موت محرم ) أراد بہ من لا تحرم خلوتہ بالمرأۃ فیشمل زوجھا، و کموتھا و عدمھا ابتداء اھ ( کتاب الحج ، باب الإحصار، ج2، ص 590، ط سعید )-
و فی الجوھرہ النیرۃ علی المختصر القدوری : الإحصار في اللغة المنع يقال حصره العدو وأحصره المرض وفي الشرع عبارة عن منع المحرم عن الوقوف والطواف بعذر شرعي يباح له التحلل بالدم بشرط القضاء عند الإمكان قال رحمه الله (إذا أحصر المحرم بعدو أو أصابه مرض يمنعه من المضي حل له التحلل) ( إلی قولہ ) (قوله وقيل له ابعث بشاة تذبح بالحرم) أو بقيمتها ولا يجوز التحلل إلا بعد الذبح وتقييده بالحرم إشارة إلى أنه في الحل فإن كان في الحرم وذبح مكانه حل وإن ذبح عنه في غير الحرم أو لم يذبح في اليوم الذي واعدهم فيه فحل وهو لا يعلم فعليه دم لإحلاله وهو على إحرامه كما كان حتى يذبح عنه فإن بعث بهديين فإنه يحل بذبح الأول منهما والآخر يكون تطوعا إلا أن يكون قارنا فإنه لا يحل إلا بذبح الآخر اھ ( باب الإحصار، ج: 1، ص: 178، ناشر المکتبۃ الخیریۃ )-