میرا سوال یہ ہے کہ اگر نیند میں انتشار کے دوران آنکھ کھلے، لیکن یہ یقین ہو کہ شہوت نہیں ہوئی، صرف عضو پر اس رنگ کے قطرے ہوں اور کپڑوں پر صرف دو یا تین قطرے لگے ہوں تو اس صورت میں کیا غسل فرض ہوگا؟ کیونکہ شہوت کے ساتھ نکلنے والا پانی تو بہت زیادہ اور قوّت کے ساتھ آتاہے، جبکہ میری آنکھ انتشار کے وقت کھلی اور صرف کچھ قطرے تھے۔؟
سائل اگر انتشار کی حالت میں سویا تھا اور پھر نیند کی حالت میں کچھ قطرےنکلے، جس کے بارے میں سائل کو یہ یقین ہو کہ منی نہیں ہے، تو اس پر غسل لازم نہیں اور اگر سوتے وقت انتشار نہیں تھا اور پھر نیند کی حالت میں قطرے نکل آئے اور سائل کو اس کے منی ہونے میں تردد ہو تو اس پر غسل لازم ہے۔
فی الهندیة: ذکر هشام فی نوادره عن محمد إذا استیقظ الرجل فوجد البلل فی إحلیله ولم یتذکر حلما وإن کان ذکره منتشرا قبل النوم فلا غسل علیه الّا ان تیقن أنه منی، وإن کان ذکره ساکنا قبل النوم فعلیه الغسل، قال شمس الائمه الحلوانی رحمه اللہ هذه المسئلة یکثر وقوعها والناس عنها غافلون فیجب أن تحفظ کذا فی المحیط. (۱/ ۱۵)۔
وفی البحر: وفی فتاویٰ قاضی خان: إذا استیقظ فوجد بللا فی احلیله وشك فی أنه منی أو مذی فعلیه الغسل إلّا إذا کان ذکره منتشرًا قبل النوم فلا یلزمُه الغسل إلّا أن یکون أکبر رأیه أنه منی فیلزمه الغسل وهذه المسئلة یکثر وقوعها والناس عنها غافلون اھ (۱/ ۵۸) واللہ اعلم