عدالتی خلع ٹھیک ہے کہ نہیں؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ، جس کی صحت کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جبکہ عدالتی یک طرفہ خلع میں عموماً یہ شرط مفقود ہونے کی وجہ سے ایسی ڈگری عام حالات میں شرعاً معتبر نہیں ہوتی اور اس سے شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا۔
کما فی احکام القران للجصاص: قال انھما لایجوز خلعھما الا برضی الزوجین فقال اصحابنا لیس للحکمین أن یفرقا الا برضی الزوجین لأن الحاکم لایملک ذلک فکیف یملکہ الحکمان و انما الحکمان وکیلان لھما أحدھما وکیل المرأۃ و الآخر وکیل الزوج فی الخلع (الی قولہ) و کیف یجوز للحکمین أن یخلعھما بغیر رضاہ و یخرج المال عن ملکھا اھ (ج 3 ، ص 153 ، ط: سھیل اکیڈمی)۔
و فی التاتارخانیۃ: الخلع وقد یفتقر الی الایجاب و القبول یثبت الفرقۃ و یستحق علیھا العوض اھ ( کتاب الخلع ، ج3 ، ص 453 ، ط: ادارۃ القرآن) ۔
وفی بدائع الصنائع: وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول اھ (کتاب الطلاق، ج 3 ، ص 145 ، ط: سعید)۔