کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک سال قبل ہم نے اپنی بیٹی کی شادی کی تھی۔ میاں بیوی کے درمیان ذہنی ہم آہنگی نہ ہو نے کی وجہ سے ہم خلع لینا چاہتے ہیں،جس کے لئے ہم نے خلع کا اسٹامپ پیپر بنوایا ہے اور داماد سے مطالبہ کیا کہ وہ اس پر دستخط کرکے معاملہ کو ختم کردے، تو اس نے کہا کہ خلع کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ لہذا آپ خلع کی ثبوت اور شرعی حیثیت کو واضح فرمادیں ،
اور فسخِِ نکاح کا طریقہ کار کیا ہے ؟ اس کی بھی رہنمائی فرمائیں، تاکہ اگر وہ دستخط کرنے پر آمادہ نہ ہو تو فسخِ نکاح کا طریقہ کار اختیار کیا جائے۔
واضح ہو کہ ” خلع “ عربی زبان کا لفظ ہے، اور خَلَع َسے لیا گیا ہے جس کے معنی ” اتارنے “ کے ہیں ، جیسے کہ عربی میں کہا جا تا ہے "خلعت اللباس" میں نے لباس اتار دیا ، پھر استعارۃً اس لفظ کو میاں بیوی کے درمیان تفریق اور جدائی کے لئے استعمال کیا گیا، چنانچہ قرآنِ کریم نے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے " کما قال اللہ تعالیٰ ھن لباس لکم و أنتم لباس لھن " ( البقرۃ 182 ) ترجمہ از معارف القرآن مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ: ” وہ پوشاک ہیں تمہاری اور تم پوشاک ہو ان کی“اس خلع کے ذریعے میاں بیوی اپنا یہ معنوی لباس اتار دیتے ہیں ، خلع کی اصطلاحی تعریف صاحبِ فتح القدیر علامہ ابن ِ ہمام رحمہ اللہ نے یوں کی ہے " إزالۃ ملک النکاح ببدل بلفظ الخلع " ملکِ نکاح کو مالی عوض کے بدلے لفظِ خلع کے ذریعے ختم کرنا ۔
خلع کا ثبوت قرآنِ کریم سے ہونے کے ساتھ ساتھ متعدد احادیث ِ مبارکہ سے بھی ہے، چنانچہ قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: فإن خفتم ألا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا و من یتعدد حدودد اللہ فالآئک ھم الظالمون ( البقرۃ : 229 ) ترجمہ ازمعارف القرآن مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ :” پھر اگر تم ڈرو اس بات سے کہ قائم نہ رکھ سکیں اللہ کا حکم تو کچھ گناہ نہیں دونوں پر اس میں کہ عورت بدلہ دیکر چھوڑ جاوے ، یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں، سو ان سے آگے مت بڑھو ، اور جو کوئی بڑھ چلے اللہ کی باندھی ہوئی حدوں سے سو وہی لوگ ہیں ظالم“۔
چنانچہ یہ آیت صریح ہے اس بات میں کہ اگر میاں بیوی کا ایک ساتھ نباہ ممکن نہ ہو تو عورت کچھ مال دیکر مرد سے خلع لے سکتی ہے ۔
جہاں تک احادیثِ مبارکہ سے خلع کی ثبوت کی بات ہے تو اس حوالے سے امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں ایک روایت نقل کی ہے : حدثنا ازھر بن جمیل قال : حدثنا عبد الوھاب الثقفی قال : حدثنا خالد عن عکرمۃ، عن بن عباس رضی اللہ عنھما: أن امرأۃ ثابت بن قیس أتت النبی ﷺ فقالت : یا رسول اللہ، ثابت بن قیس ما اعتب علیہ فی خلق و لا دین و لکننی أکرہ الکفر فی الإسلام، فقال رسول اللہ ﷺ (( أتردین علیہ حدیقتہ ؟ )) قالت : نعم قال رسول اللہ ﷺ (( اقبل الحدیقۃ، و طلقھا تطلیقۃ )) ( ج 3، ص 2400، ط بشریٰ)-
اس روایت میں موجود ہے کہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اور عرض کیا کہ میں ثابت بن قیس کے اخلاق اور ان کی دین داری کے متعلق کوئی عیب نہیں لگاتی، لیکن مجھے ان کی ناقدری کا خطرہ ہے ( اس لئے ان سے علیحدگی چاہتی ہوں ) تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ انہوں نے جو باغ تمہیں مہر میں دیا ہے وہ تم انہیں لوٹادوگی؟ تو ان کی اہلیہ نے اس پر رضامندی ظاہر کی ، تو پیغمبر ﷺ نے حضرتِ ثابت بن قیس کو بلا کر فرمایا: اپنا باغ واپس لے لو اور انہیں طلاق دے دو ۔
اسی طرح امام محمد بن عیسیٰ الترمذی رحمہ اللہ نے سنن الترمذی کی ایک روایت میں ربیع بنتِ معوذ ابن عفراء کے خلع کا تذکرہ کیا ہے : عن الربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنھا أنھا اختلعت علی عھد رسول اللہ ﷺ، فأمرھا النبی ﷺ ۔ أو أمرت ۔ أن تعتد بحیضۃ ۔ ترجمہ : ربیع بنتِ معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کے زمانہ میں خلع لے لی ، تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا ( یا حکم دیا گیا ) کہ وہ ایک حیض عدت گزارے ( باب ما جاء فی الخلع ، ج 1، ص 467 ، ط بشریٰ )-
چنانچہ مذکورہ آیتِ کریمہ اور احادیثِ مبارکہ ثبوت خلع پر دلالت کررہی ہیں۔ اور حقیقت میں شریعتِ مطہرہ کا اصل مزاج یہی ہے کہ نکاح کا معاملہ پوری زندگی کے لئے برقرار رہے ، اس کو ختم نہ کیا جائے ، اس کی وجہ یہی ہے کہ اس نکاح کے انقطاع اور ختم ہونے کا اثر صرف میاں بیوی پر نہیں پڑتا بلکہ دو مختلف خاندان اور قبائل تک اس کے اثرات جا پہنچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حلال کاموں میں سب سے مبغوض چیز شریعت نے طلاق کو قرار دیاہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ أبغض الحلال إلي الله الطلاق یعنی حلال کاموں میں اللہ کے ہاں سب سے مبغوض طلاق ہے، اس لئے تعلیماتِ اسلام نے حتی الامکان اس بات کا اہتمام کیا ہے کہ جو اسباب اور وجوہ اس مقدس رشتے کو توڑنے کا سبب بنے ان کو ہٹانے کی کوشش کرنی چاہیئے اس کیلئے قرآن کریم میں حكماً من أهله و حكماً من أهلها فرما کر اس معاملے میں دونوں خاندانوں سے ثالث مقرر کرکے اس کو حل کرنے کی کوشش کی ترغیب دی گئی ہے۔
لیکن اگر اس کے باوجود بھی آپس میں ساتھ رہنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں شریعت نے اس کا حل بھی نکالا ہے. یہ نہیں کہ ہر حال میں یہ نکاح ناقابلِ فسخ ہو، بلکہ اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے طلاق اور فسخ کا قانون بنایا ، طلاق کا اختیار شوہر کے ہاتھ میں دیا کیونکہ عادتاً اس میں غور و فکر تدبر و تحمل کا مادہ زیادہ ہے بہ نسبت عورت کے ، اور عورت کو بھی بالکل اس طرح نہیں چھوڑا کہ وہ شوہر کے ہر ظلم و ستم کو سہتی رہے، بلکہ اس کو اختیار دیا کہ وہ شرعی عدالت میں پیش ہوکر شکایات کا ثبوت دیکر اپنا نکاح فسخ کرادے یا شوہر کو بعوضِ مال خلع پر راضی کرادے مگر فسخ نکاح اور خلع کیلئے شکایات کے ثبوت دینا ضروری ہے، کیونکہ بغیر کسی سبب کے طلاق اور خلع کا مطالبہ کرنے والی عورت کیلئے سخت وعیدیں آئی ہیں۔ چنانچہ سنن الترمذی میں ایک روایت ہے:
روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال (( أيما امرأة اختعلت من زوجها من غير بأس لم ترح رائحة الجنة)) ( باب ما جاء في المختلعات، ج ١، ص ٤٦٧، بشري ) ترجمہ : جو عورت بغیر کسی سبب کے اپنے شوہر سے خلع کا مطالبہ کریگی وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گی۔
تاہم میاں بیوی کے درمیان خلع ہونے کی صورت میں بیوی ایک طلاق سے بائن ہوجائےگی، اس کے بعد بھی اگر میاں بیوی دورانِ عدت یا بعد از عدت اس رشتہ کو دوبارہ بحال کرنا چاہیں تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا شرعاً لازم ہوگا، اس نکاح کے بعد شوہر کے پاس آئندہ کے لئے صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
جبکہ شریعت میں فسخِ نکاح کا طریقہ کار یہ ہے کہ اگر اسبابِ فسخِ نکاح میں سے کوئی سبب موجود ہو تو عورت اپنا مقدمہ مسلمان حاکم (جج ) کے سامنے پیش کرے، اور جس کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہو وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو جائے تو ضوابطِ ِشرعیہ کی روشنی میں معاملہ کی نوعیت کے مطابق فوری یا کچھ مدت کے بعد قاضی مرد کا قائم مقام بن کر اس کی بیوی پر طلاق واقع کرسکتا ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کا داماد خلع کے اسٹام پیپر پر دستخط کردے تو اس سے سائل کی بیٹی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہو جائے گا اس کے بعد سائل کی بیٹی عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، سائل اور اس کی بیٹی کو اس کی کوشش کرنی چاہیئے ، لیکن اگر شوہر خلع پر آمادہ نہ ہو تو ایسی صورت میں اگر اسبابِ فسخِ نکاح میں سے کوئی سبب موجود ہو تو بذریعۂ عدالت فسخ نکاح کیا جا سکتا ہے جس کی تفصیل میاں بیوی کے درمیان نباہ نہ ہونے کی وجوہات ذکر کرکے معلوم کی جاسکتی ہے۔
کما فی أحکام القرآن للجصاص : قال أصحابنا لا یجوز خلعھما إلا برضی الزوجین فقال أصحابنا لیس للحکمین أن یفرقا إلا برضی الزوجین لأن الحالم لا یملک ذلک فکیف یملکہ الحکمان و إنما الحکمان وکیلان لھما أحدھما وکیل المرأۃ و الآخر وکیل الزوج فی الخلع إلخ ( ج 3 ، ص 153 )-
و فی حیلۃ الناجزۃ : و أما المتعنت الممنتع عن الإنفاق ففی مجموع الأمیر ما نصہ : إن منعھا نفقۃ الحال فلھا القیام فإن لم یثبت عسرہ انفق أو طلق و إلا طلق علیہ، قال محشیہ أی طلاق علیہ الحاکم من غیر تلوم اھ ( ص 73 )-
و فی المبسوط: و الخلع جائز عند السلطان و غیرہ لأنہ عقد یعتمد التراضی کسائر العقود اھ ( ج 6، ص 173 )-
و فی البدائع فقد اختلف فی ماھیۃ الخلع قال أصحابنا ھو طلاق و ھو مروی عن عمر و عثمان ر ضی اللہ عنھما و للشافعی قولان فی قول مثل قولنا و فی قول لیس بطلاق بل ھو فسخ و ھو مروی عن ابن عباس رضی اللہ عنھما، فائدۃ الاختلاف أنہ إذا خالع امرأتہ ثم تزوجھا تعود إلیہ بطلاقین عندنا و عندہ بثلاث تطلیقات حتیٰ لو طلقھا بعد ذلک تطلیقتین حرمت علیہ حرمۃ غلیظۃ عندنا و عندہ لا تحرم إلا بثلاث ( إلی قولہ ) و أما بیان کیفیۃ ھذا النوع فنقول لہ کیفیتان إحدھما أنہ طلاق بائن لأنہ من کنایات الطلاق و إنھا بوائن عندنا و لأنہ طلاق بعوض و قد ملک الزوج العوض بقبولھا فلا بد و إن تملک ھی نفسھا تحقیقاً للمعاوضۃ و لا تملک نفسھا إلا بالبائن فیکون طلاقاً بائناً و لأنھا إنما بذلت العوض لتخلیص نفسھا عن حبالۃ الزوج و لا تتخلص إلا بالبائن إلخ ( ج 3، ص 144، ط سعید )-
و فی البحر : ( قولہ الواقع بہ و بالطلاق علی مال طلاق بائن ) أی بالخلع الشرعی أما الخلع فلقولہ علیہ الصلوۃ و السلام الخلع تطلیقۃ بائنۃ و إنہ یحتمل الطلاق حتی صادر من الکنایات بائن إلخ ( باب الخلع، ج 4، ص 71، ط ماجدیۃ )-