محترم مفتی صاحب!السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
امید ہے کہ آپ خیریت اور کامل ایمان کے ساتھ ہوں گے،میں پاکستانی شہریت رکھتی ہوں ،اور اس وقت الخبر، سعودی عرب میں مقیم ہوں، میں اپنے نکاح کے حوالے سے رہنمائی کی طالب ہوں۔
میری شادی دسمبر 2023 میں نکاح کی صورت میں ہوئی، جبکہ رخصتی اپریل 2024 میں انجام پائی، بدقسمتی سے شادی کے بعد سے میرے شوہر کی طرف سے مسلسل جذباتی اور زبانی بدسلوکی کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث میرے لئے اس رشتے کو مزید نبھانا ممکن نہیں رہا، ان تکالیف میں درجِ ذیل امور شامل ہیں:
معمولی باتوں پر طویل خاموشی اختیار کرنا، مجھے دوسروں سے ملنے جلنے سے روکنا ،اور سماجی طور پر تنہا رکھنا، ایک موقع پر بغیر کسی واضح وجہ کے سات دنوں تک الگ کمرے میں سونا، رات گئے بغیر اطلاع دیے گھر سے جانا، جبکہ میں اجنبی ملک میں تنہا ہوتی ہوں، اختلاف کی صورت میں میری ویڈیوز یا آڈیوز ریکارڈ کرنا،زبانی دھمکیاں دینا، جن میں طلاق کی دھمکیاں بھی شامل ہیں،ان سب واقعات نے میری ذہنی اور جذباتی صحت پر شدید اثر ڈالا ہے۔
تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل میرے شوہر نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں یہ رشتہ جاری رکھنا چاہتی ہوں؟ میں پہلے ہی اس رشتے سے علیحدگی کا فیصلہ کر چکی تھی، مگر اکیلی ہونے کے سبب جواب دینے سے ہچکچا رہی تھی، اس کے بعد میں نے اپنے والدین کو سعودی عرب بلایا، جنہوں نے یہاں آ کر میرے شوہر کو واضح طور پر میرے فیصلے سے آگاہ کیا کہ میں اس نکاح کو جاری نہیں رکھنا چاہتی،اس کے باوجود میرے شوہر نہ تو طلاق دے رہے ہیں،، اور نہ ہی میرا خروج و عودہ ویزا (exit/re-entry visa) جاری کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے میں یہاں سے واپس اپنے ملک نہیں جا سکتی، اس وقت میرے والدین بھی میرے ساتھ موجود ہیں،میں اب پاکستان میں عدالت کے ذریعے خلع لینے پر غور کر رہی ہوں، میری عاجزانہ گزارش ہے کہ آپ رہنمائی فرمائیں کہ اگر میرے شوہر رضامند نہ ہوں، تو کیا ایسی صورت میں پاکستانی عدالت سے لیا گیا خلع شرعاً بالخصوص حنفی فقہ اور دیوبندی مسلک کے مطابق معتبر ہوگا؟اگر آپ کو کسی قسم کی مزید معلومات یا دستاویزات درکار ہوں ،تو میں فراہم کرنے کے لیے حاضر ہوں۔آپ کی قیمتی رہنمائی کی بہت محتاج ہوں،جزاکم اللہ خیراً و احسن الجزاء۔والسلام
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ سائلہ کاشوہر اس کے حقوق ادا نہ کرتا ہو ،یا بغیر کسی وجہ کے الگ کمرے میں سوتاہو ، اورزبانی دھمکیاں دیتا ہوکہ جس میں طلاق کی دھمکیاں بھی شامل ہوں، تو اس کا سائلہ کے ساتھ مذکور روّیہ اپنانا غیر اخلاقی ہونے کے ساتھ شرعاً ناجائز ہے، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہا ہے ، جس پر اسے بصدقِ دل توبہ و استغفار کرتے ہوئے مذکور طرزِ عمل سےاجتناب لازم ہے ، تاہم سائلہ کی جانب سے شوہر کی مکمل حقوق کی ادائیگی ، حکمت سے از خود سمجھانے ، اور خاندان کے بڑوں کے ذریعہ معاملات درست کرانے کی کوشش کے باجود شوہر اپنے مذکور رویے سے باز نہ آ رہا ہو ، اور سائلہ کے لئے ہر ممکن کوشش کے بعد اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ حدود کی پاسداری کرتے ہوئے میاں کے ساتھ نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں سائلہ شوہر سے خلع لے سکتی ہے ، اور اس کی وجہ سے سائلہ گناہ گار بھی نہ ہو گی ، مگر واضح ہوکہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے،جوکہ عموماً یکطرفہ عدالتی خلع میں مفقودہوتی ہے ،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا شوہر یا اسکی طرف سے مقرر کردہ وکیل اگرعدالت میں حاضر نہیں ہوگا، اور عدالت شوہر کی موجودگی اور رضامندی کے بغیر یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری کرے گی ،تو اس ڈگری کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہوگا،اور نہ ہی اسکی وجہ سے سائلہ کا نکاح ختم ہوگا،چنانچہ سائلہ کےلئےاس ڈگری کو بنیاد بنا کر کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا بھی جائز نہیں۔
كما في احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لايملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والأخروكيل الزوج في الخلع (الى قوله)وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال من ملكها اھ(3 / 153)۔
وفي التاتارخانية:الخلع عقد يفتقر الى الايجاب والقبول يثبت الفرقة ويستحق عليها العوض الخ ( 3/ 453) –
و فی رد المحتار: (قوله: وشرطه كالطلاق) وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك. وأما ركنه فھو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول، بخلاف ما إذا قال خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع وإن لم تقبل لأنه طلاق بلا عوض فلا يفتقر إلى القبول۔اھ (3/441)۔