السلام علیکم !
ہم سات خواتین اور دو مردوں کا ایک خاندانی گروپ ہیں جو اکٹھے عمرہ کرنا چاہتے ہیں، خواتین میں میری والدہ (72 سال، بیوہ)، میں اور میری دو بہنیں (51، 47، 40 سال، سب شادی شدہ ہیں)، میری چچی، میری پھوپھی کی بیٹی (22 سال، غیر شادی شدہ)، اور میری بہنوئی ہیں، مردوں میں میرے دو پھوپھو کے بیٹے ہیں (29 سال اور 27 سال، ایک شادی شدہ اور ایک غیر شادی شدہ)ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کیا موجودہ سعودی قواعد و ضوابط اور اسلامی رہنما اصولوں کے تحت ہم اپنے دو پھوپھو کے بیٹوں کومحرم بنا کر عمرہ کے لئے سفر کر سکتے ہیں؟ اگر ہاں، تو کیا ہمیں کسی سرکاری دفتر سے کوئی سرٹیفیکیٹ، اجازت نامہ یا مہر لگایا ہوا کاغذ حاصل کرنا ہوگا؟ ہم ویزہ کے لئے درخواست دینے سے پہلے اس بات کی تصدیق کرنا چاہتے ہیں، تاکہ درخواست مسترد ہونے کا خطرہ نہ رہے۔ جزاکم اللہ خیر۔
واضح ہو کہ عورت کے لئے بغیر محرم کے مسافتِ شرعیہ(سوا ستتر کلو میٹر) کے بقدر سفر کرنا درست نہیں ،لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ،اس کی بہن،اور چچی کاکوئی محرم گروپ میں شامل نہیں ،اس لئے ان کے لئے مذکور گروپ کے ساتھ سفر عمرہ پر جانے کی شرعا اجازت نہیں ،جبکہ سائلہ کی والدہ،اسکی دوسری بہن (جس کا شوہرگروپ میں موجود ہے)کے اپنے مذکور محارم کے ساتھ سفر پر جانے کی اجازت ہے، نیز موجودہ سعودی قواعد وضوابط کیا ہیں، اور ان کی کیا تفصیلات ہیں،اس کے متعلق ہمیں معلومات حاصل نہیں ہیں، لہذا بہتر یہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی ٹریول ایجنٹ یا سعودی ایمبسی سے معلومات حاصل کرلی جائیں۔
كما في صحيح البخاري : عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم : لا تسافر المرأة إلا مع ذي محرم الخ (باب حج النساء، ج 3، ص 19، رقم : 1862، ط : السلطانية)-
وفي البحر الرائق : والمحرم من لا يجوز له مناكحتها على التأبيد بقرابة، أو رضاع، أو مصاهرة الخ (كتاب الحج ، ج 2 ، ص 339، ط : دار الكتاب الإسلامي)-
و في الفتاوى الهندية : (ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزا إذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط الخ (کتاب الحج،الباب الأول في تفسير الحج وفرضيته ووقته وشرائطه وأركانه، ج 1، ص 218، ط : دار الفكر، بيروت)-
وفي بدائع الصنائع : ولأنها إذا لم يكن معها زوج، ولا محرم لا يؤمن عليها إذ النساء لحم على وضم إلا ما ذب عنه، ولهذا لا يجوز لها الخروج وحدها. والخوف عند اجتماعهن أكثر، ولهذا حرمت الخلوة بالأجنبية، وإن كان معها امرأة أخرى، والآية لا تتناول النساء حال عدم الزوج، والمحرم معها؛ لأن المرأة لا تقدر على الركوب، والنزول بنفسها فتحتاج إلى من يركبها، وينزلها، ولا يجوز ذلك لغير الزوج، والمحرم الخ (فصل شرائط فرضية الحج، ج 2، ص 123، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-