کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اپنی جائیداد زندگی میں اپنی بیوی اور بچوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہوں، تو کس کو کتنا حصہ ملےگا؟ شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔ شکریہ!
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے مال و جائیداد وغیرہ کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے، اس پر اپنی حیات میں اس کی تقسیم بھی لازم نہیں، اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کے لئے اس میں حصہ داری کے مطالبے کا حق ہوتا ہے، تاہم اگر سائل اپنی صحت والی زندگی میں بلاکسی جبر واکراہ کے محض اپنی اور خوشی سے اپنا مال وجائیداد وغیرہ اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً یہ بھی جائز ہے۔ اور یہ تقسیمِ ترکہ نہیں، بلکہ یہ ہبہ اور گفٹ کہلاتا ہے۔ جس کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ ایک محتاط اندازہ کے مطابق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے ، وہ رکھ کر اپنی اور بیوی کو جو کچھ دینا چاہے وہ دے کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان برابر برابر حصوں میں تقسیم کر کے ہر فرد کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے ،تا کہ یہ ہبہ شرعاً بھی درست اور تام ہو جائے، محض کاغذوں میں نام کر دینا کافی نہیں، پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب برابر اور یکساں رکھے، کیونکہ سب ہی اس کی اولاد ہیں، کسی کو زیادہ یا کم نہ دے، البتہ کسی کی خدمت گزاری یا دین داری وغیرہ کی بناء پر اسے دوسرے ورثاء کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا انہیں اختیار ہے، مگر بلاوجہِ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے تاہم مذکور ہبہ کا عمل اگر ورثاء میں سے کسی کو محروم کرنے کے لئے کیا جائے تو یہ گناہ ہوگا۔ جس سے اجتناب چاہیئے۔
کما في الدر المختار: (و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. (وركنها) هو (الإيجاب والقبول) (5/ 688)۔
و في حاشية ابن عابدين: (قوله: هو الإيجاب) و في خزانة الفتاوى: إذا دفع لابنه مالا فتصرف فيه الابن يكون للأب إلا إذا دلت دلالة التمليك بيري. (5/ 688)۔
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: لا خلاف بين جمهور العلماء في استحباب التسوية في العطاء بين الأولاد، وكراهة التفضيل بينهم في حال الصحة كما تقدم (5/ 4012)۔
و في حاشية ابن عابدين: ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى (4/ 444)۔
و في الدر المختار: في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى (5/ 696)۔
و في الدر المختار؛ (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) (5/ 690)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0