احکام وراثت

زندگی میں تقسیمِ جائیداد کا مسئلہ

فتوی نمبر :
83026
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / ترکات / احکام وراثت

زندگی میں تقسیمِ جائیداد کا مسئلہ

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اپنی جائیداد زندگی میں اپنی بیوی اور بچوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہوں، تو کس کو کتنا حصہ ملےگا؟ شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔ شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے مال و جائیداد وغیرہ کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے، اس پر اپنی حیات میں اس کی تقسیم بھی لازم نہیں، اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کے لئے اس میں حصہ داری کے مطالبے کا حق ہوتا ہے، تاہم اگر سائل اپنی صحت والی زندگی میں بلاکسی جبر واکراہ کے محض اپنی اور خوشی سے اپنا مال وجائیداد وغیرہ اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً یہ بھی جائز ہے۔ اور یہ تقسیمِ ترکہ نہیں، بلکہ یہ ہبہ اور گفٹ کہلاتا ہے۔ جس کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ ایک محتاط اندازہ کے مطابق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے ، وہ رکھ کر اپنی اور بیوی کو جو کچھ دینا چاہے وہ دے کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان برابر برابر حصوں میں تقسیم کر کے ہر فرد کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے ،تا کہ یہ ہبہ شرعاً بھی درست اور تام ہو جائے، محض کاغذوں میں نام کر دینا کافی نہیں، پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب برابر اور یکساں رکھے، کیونکہ سب ہی اس کی اولاد ہیں، کسی کو زیادہ یا کم نہ دے، البتہ کسی کی خدمت گزاری یا دین داری وغیرہ کی بناء پر اسے دوسرے ورثاء کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا انہیں اختیار ہے، مگر بلاوجہِ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے تاہم مذکور ہبہ کا عمل اگر ورثاء میں سے کسی کو محروم کرنے کے لئے کیا جائے تو یہ گناہ ہوگا۔ جس سے اجتناب چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في الدر المختار: (و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. (وركنها) هو (الإيجاب والقبول) (5/ 688)۔
و في حاشية ابن عابدين: (قوله: هو الإيجاب) و في خزانة الفتاوى: إذا دفع لابنه مالا فتصرف فيه الابن يكون للأب إلا إذا دلت دلالة التمليك بيري. (5/ 688)۔
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: لا خلاف بين جمهور العلماء في استحباب التسوية في العطاء بين الأولاد، وكراهة التفضيل بينهم في حال الصحة كما تقدم (5/ 4012)۔
و في حاشية ابن عابدين: ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى (4/ 444)۔
و في الدر المختار: في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى (5/ 696)۔
و في الدر المختار؛ (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) (5/ 690)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یوسف ابراہیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83026کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات