السلام علیکم مفتی صاحب
میں نے چند سال پہلے ایک شخص سے نکاح کیا تھا لیکن وہ رشتہ اب باقی نہیں رہا۔ وہ شخص مجھے طلاق نہیں دے رہا اور میں اب اس سے مکمل طور پر الگ ہونا چاہتی ہوں۔ میری فیملی کو اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے اور میں خفیہ طور پر شرعی خلع لینا چاہتی ہوں۔ کیا آپ میری رہنمائی فرما سکتے ہیں؟ جزاک اللہ خیراً
صورت مسئولہ میں اولاً تو سائلہ کا اپنے گھر کے افراد کے علم میں لائے بغیر چھپ کر نکاح کرنا انتہائی درجہ نا مناسب طرز عمل تھا جو شریف خاندانوں میں انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے اور اس کے نتائج بھی بہت سنگین ہوتے ہیں جس کا ادراک سائلہ بخوبی کر سکتی ہے۔
ثانیاً اس نکاح کے بعد اگر سائلہ اس شخص سے بذریعہ خلع علیحدگی چاہتی ہو تو جاننا چاہیئے کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ، جس کی صحت کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور با قاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جبکہ عدالتی یک طرفہ خلع میں عموماً یہ شرط مفقود ہونے کی وجہ سے ایسی ڈگری شرعا معتبر نہیں ہوتی، بلکہ اس ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجود نکاح بدستور قائم رہتا ہے لہذا سائلہ کو چاہیئے کہ کسی بھی طریقہ پر شوہر کو خلع یا طلاق پر آمادہ کر کے اس سے علیحدگی حاصل کرے تا کہ شرعاً بھی یہ نکاح ختم ہو کر سائلہ اپنے مستقبل کے فیصلہ میں آزاد ہو۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنہما لا یجوز خلعھما إلا برضی الزوجین فقال أصحابنا لیس للحکمین أن یفرقا إلا برضی الزوجین لأن الحاکم لا یملک ذلک فکیف یملکہ الحکمان وإنما الحکمان وکیلان لھما أحدھما وکیل المرأۃ والأخر وکیل الزوج فی الخلع (الی قولہ) وکیف یجوز للحکمین أن یخلعا بغیر رضاہ ویخرجا المال عن ملکھا الخ (ج:2، ص: 191، ط: سہیل اکیڈیمی )۔
و فی البدائع: أما الأول فقد اختلف فی ماھیۃ الخلع قال أصحابنا: ھو طلاق وھو مروی عن عمر و عثمان – رضی اللہ عنہما – (الی قولہ) وفائدۃ الاختلاف أنہ إذا خالع امرأتہ ثم تزوجھا تعود إلیہ بطلاقین عندنا الخ ـ (ج: 3، ص: 144، ط: سعید )۔
و فی الدر المختار: (ولا بأس بہ عند الحاجۃ) للشقاق بعدم الوفاق (بما یصلح للمھر) (الی قولہ) (و) حکمہ أن (الواقع بہ) ولو بلا مال (وبالطلاق) الصریح (علی مال طلاق بائن) وثمرتہ فیما لو بطل البدل کما سیجيء (و) الخلع (ھو من الکنایات فیعتبر فیہ ما یعتبر فیھا) من قرائن الطلاق الخ (ج۳، ص: 441- 444، ط: سعید )۔