مولانا صاحب میں دبئی میں نوکری کرتا ہوں 6 ماہ پہلے اپنی بیوی کو اس کے والدائن کے پاس چھوڑ کے گیا ، اس کےتمام اخراجات میں خود ادا کرتا ہوں ۔اب جب 6 ماہ بعد واپس پاکستان آیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس کے والدین میری بیوی کی آگے منگنی کردی ہے ،اور مجھ پے خلع کا کیس کردیا ابھی تک وہ میری نکاح میں موجود ہے
میں اسے اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں طلاق نہیں دینا چاہتا ہوں ،وہ کورٹ میں جھوٹ بول کے خلع لے گی تو کیا طلاق تصور ہو گی مہربانی فرما کے حکم شریعت سے آگاہ فرماکر حکمِ شرعی سے آگاہ فرمائیں جزاک اللہ
واضح ہو کہ خلع بھی چونکہ دیگرعقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کے صحیح ہونے کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی ضروری ہے، جو کہ عدالتی خلع میں مفقود ہوتا ہے ، اس لئے عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگڑی جاری ہونے کے باوجود بھی شرعاً میاں بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوتا بشرطیکہ اس میں فیصلہ فسخ نکاح کے اسباب میں سے کوئی سبب موجود نہ ہو بلکہ بدستور برقرار رہتاہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی بیوی نے سائل یا اسکے وکیل کی اجازت ورضامندی کے بغیر عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگڑی حاصل کرلے اور شوہر کا عدالت کے سامنے رشتہ برقرار رکھنے پر اصرار کے باوجود عدالت بیوی کے حق میں خلع کی ڈگڑی جاری کردے تو اس خلع کی ڈگری جاری ہونے کے باوجود شرعاً سائل کی بیو ی پر طلاق واقع نہیں ہوگی بلکہ شرعاً سائل اور اس کی بیوی کا نکاح بدستور قائم رہے گا، نیز اس ڈگری کی بنیاد پو مذکور لڑکی کا دوسری جگہ نکاح کرنا بھی درست نہ ہوگا۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنھما لا يجوز خلعھما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان و إنما الحكمان وكيلان لھما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع ( الی قولہ ) وکیف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها الخ۔ ( باب الحکمین کیف یعملان ،ج: 2، ص: 191، ط: سھیل اکیڈمی)۔
و فی الفقہ الإسلامی: أرکان الخلع ( الی قولہ) الأول ان یصدر من الزوج أو وکیلہ أو ولیہ إن کان صغیراً أو سفیھاً غیر رشیدٍ الخ۔ ( الفصل الثامن، ج:1، ص: 463، ط: رشیدیہ) ۔