السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته
میرا نام محمد عبدالمقتدر ہے، اس وقت دبئی (متحدہ عرب امارات) میں مقیم ہوں۔ میں 1993 سے 2007 تک تقریباً 14 سال جدہ (سعودی عرب) میں مقیم رہا۔اس عرصے کے دوران میں نے 40 سے زائد عمرے کیے، لیکن اس وقت لاعلمی اور ماحول کے اثر کی وجہ سے، ہر عمرے کے بعد صرف سر کے تین کونوں سے چند بال قینچی سے کاٹے، جیسا کہ میں نے کئی لوگوں کو مروہ کے قریب ایسا کرتے دیکھا۔ یہ مکمل حلق یا قصر نہیں ہوتا تھا، بلکہ صرف چند بال کاٹ دیے جاتے تھے۔2008 سے 2025 (18 سال) کے دوران، الحمدللہ، اللہ کے فضل سے میں تقریباً ہر سال عمرہ کر رہا ہوں اور ہر عمرے کے بعد مکمل حلق کروا رہا ہوں۔ ان سالوں میں میں نے اندازاً 30 سے 35 عمرے کیے ہیں۔
میری گذارش ہے کہ درجِ ذیل سوالات کے متعلق شرعی راہنمائی فرمائیں:
1993 سے 2007 کے درمیان کیے گئے عمرے جن میں صرف چند بال تین کونوں سے کاٹے گئے، ان عمروں کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
کیا ان عمروں کے لئے میرے ذمہ کوئی دم، فدیہ، یا کفارہ واجب ہے؟
یا چونکہ پچھلے 18 سالوں سے میں عمرہ صحیح طریقے سے مکمل حلق کے ساتھ ادا کر رہا ہوں، تو کیا یہ کافی ہو گا اور پہلوں کی کوتاہی معاف سمجھی جائے گی؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرما دیں۔جزاکم اللہ خیراً ۔والسلام
سائل نے سعودی عرب کے قیام کے زمانے میں جتنے بھی عمرے سوال میں مذکور طریقے پر ادا کیے ہیں کہ عمرہ مکمل کرنے کے بعد نہ تو حلق کا اہتمام کیا گیا اور نہ ہی کامل تقصیر کا،تو سائل چونکہ مسئلہ سے ناواقفیت کی بناء پر ہر بار یہی سمجھتا رہا کہ مذکور طریقے پر چند بال کاٹنے سے حلال ہوگیا ہوں ، اور اس کے بعد احرام کی ممنوعات کا ارتکاب کرتا رہا تو اس وجہ سے اگرچہ دیگر ممنوعاتِ احرام کے ارتکاب کی بناء پر کوئی دم لازم نہ ہوگا لیکن حلق یا تقصیر کیے بغیر ہر سال اگلے عمرے کے لئے احرام باندھنے کی وجہ سے مستقل ایک دم لازم ہوگیا ہے جو حدودِ حرم میں ذبح کیے جائیں گے۔
لہٰذا سائل نے چالیس یا اس سے زائد جتنے عمرے سوال میں مذکور طریقے سے ادا کیے ہیں تو اس کوتاہی پر توبہ و استغفار کے ساتھ ساتھ ہر عمرے کے لئے ایک ایک دم حدودِحرم میں ذبح کرنے کا اہتمام کرے۔
کما فی رد المحتار: قال في اللباب: واعلم أن المحرم إذا نوى رفض الإحرام فجعل يصنع ما يصنعه الحلال من لبس الثياب والتطيب والحلق والجماع وقتل الصيد فإنه لايخرج بذلك من الإحرام، وعليه أن يعود كما كان محرماً، ويجب دم واحد لجميع ما ارتكب ولو كل المحظورات، وإنما يتعدد الجزاء بتعدد الجنايات إذا لم ينو الرفض، ثم نية الرفض إنما تعتبر ممن زعم أنه خرج منه بهذا القصد لجهله مسألة عدم الخروج، وأما من علم أنه لايخرج منه بهذا القصد؛ فإنها لاتعتبر منه.الخ(باب الجنایات فی الحج ج2 ص553 ط: سعید)۔
و فی غنیة الناسك: فصل في الجمع بین إحرامي عمرتین فأکثر بأن یحرم بهما معا أو علی التعاقب أو علی التراخي: الحکم فیه کالحکم في الحجتین في اللزوم والرفض ووقت الرفض وغیر ذلك مما یتصور في العمرة. فإذا أحرم بهما معا أو علی التعاقب بأن أحرم بأخری قبل أن یفرغ من السعي للأولی لزمه جمیع ذلك، ویرفض إحداهما في المعیة والثانیة في التعاقب، فعند أبي یوسف کما فرغ من إحرامیها، وعند أبي حنیفة إذا سار في إحداهما إلی مکة، وقیل: إذا شرع في عملها. وأما عند محمد فلم یلزمه إلا إحداهما في المعیة والأولی في التعاقب وعلیه دم الرفض وقضاء المرفوضة ولو في ذلك العام؛ لأن تکرار العمرة في سنة واحدة جائزة بخلاف الحج. وأما في التراخي بأن أحرم بأخری بعد أن یفرغ من السعي للأولی قبل الحلق فتلزمه الثانیة باتفاق الثلاثة ولایرفضها وعلیه دم الجمع، وإن حلق للأولی قبل الفراغ من الثانیة لزمه دم آخر اتفاقا، ولوبعده لا. ولو أفسد الأولی ثم أهل بالثانیة رفضها ویمضي في الأولی، ولو نوی رفض الأولی وأن یکون عمله للثا نیة لم ینفعه، فإنه لم یکن عمله إلا للأولی. وکذا هذا في الحجتین.(ص372 ط: مصباح لاہور باکستان)۔