1447 ہجری میں سعودی حکومت نے صرف عمرہ زائرین کے لیے نظام مصطفی نافذ کیا۔ کسی بھی مرد کو طواف کے لیے گراؤنڈ فلور کے مطاف کے علاقے میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ کیا یہ پابندی شریعت کی رو سے درست ہے یانہیں؟ جو لوگ مکہ مکرمہ میں عمرہ کے لیے آتے ہیں، ان زائرین پر لاگو اس پابندی کی وجہ سے پابندیاں عائد ہیں جو احادیث میں بیان کردہ عمرہ اور طواف کے فوائد حاصل کرنے کے لیے خاطر خواہ رقم اور وقت ادا کرتے ہیں۔
براہ کرم تصدیق کریں کہ سعودی حکومت کا یہ اقدام شریعت کے مطابق ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ سعودی حکومت کی جانب سے معتمرین و حجاج کرام کے لیے جو اصول وضوابط بنائے جاتےہیں ، وہ انہی کی سہولت و آسانی کیلیے بنائے جاتے ہیں، تا کہ مطاف میں بھیڑ اور ازدحام کی وجہ سے ناخوشگوار واقعات رُونما ہونے سے بچا جا سکے،لہذا سعوی حکومت کی طرف سےمطاف میں بغیر احرام کے جانے پر پابندی لگانا اسی سہولت کےلئےمحض انتظامی ہونے کی وجہ سے درست ہے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ،اورعازمین حج وعمرہ کےلئے شرعاً بھی اس پر عمل کرنالازم وضروری ہے ، کیونکہ حکومت کی جانب سے انتظامی سہولت کے پیش نظر لگائی جانے والی ایسی پابندی جو قرآن وسنت کےکسی حکم کے خلاف نہ ہو ، اس پر عمل کرنا واجب ہوتاہے اور عمل نہ کرنےسے گناہ ہوتاہے،جبکہ زائرین اگر ان اصولوں کی پابندی کو ملحوظ رکھ کر افعالِ حج وعمرہ اداکریں گےتب بھی ان شاء اللہ تعالی احادیث میں بیان شدہ تمام اجر وثواب اورفوائد کا مستحق ٹھہریں گے۔
کما قال اللہ تعالی: يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَوۡفُواْ بِٱلۡعُقُودِۚ أُحِلَّتۡ لَكُم بَهِيمَةُ ٱلۡأَنۡعَٰمِ إِلَّا مَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ غَيۡرَ مُحِلِّي ٱلصَّيۡدِ وَأَنتُمۡ حُرُمٌۗ إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ مَا يُرِيدُ (المائدة،الایۃ1)
وفی البخاری:عن عبادةبن الصامت قال:بايعنارسول الله صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعةفي المنشط والمكره،وأن لاننازع الأمرأهله وأن نقوم،أونقول بالحق حيثماكنالانخاف في الله لومةلائم الخ(کتاب الاحکام،باب كيف يبايع الإمام الناس،ج6، ح6774، ص2633، ط:دار ابن کثیر)۔
وفی شرح الاشباہ: وعن فتاوى قاضي خان: إن أمر السلطان إنما ينفذ إذا وافق الشرع.وإلا فلا ينفذ الخ(الفن الثالث،ج4،ص150،ط:دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی الدر: أمر السلطان إنما ينفذ إذا وافق الشرع وإلا فلا الخ
وفی الرد تحت(قولہ: أمر السلطان إنما ينفذ) أي يتبع ولا تجوز مخالفته الخ(کتاب القضاء،فصل فی الحبس،مطلب طاعة الإمام واجبة،ج5،ص422،ط:ایچ ایم سعید)۔
وفی البدائع: وإذا أمر عليهم يكلفهم طاعة الأمير فيما يأمرهم به، وينهاهم عنه؛ لقول الله تبارك وتعالى {يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم} [النساء: 59] وقال عليه الصلاة والسلام: «اسمعوا وأطيعوا، ولو أمر عليكم عبد حبشي أجدع ما حكم فيكم بكتاب الله - تعالى» ولأنه نائب الإمام، وطاعة الإمام لازمة كذا طاعته؛ لأنها طاعة الإمام، إلا أن يأمرهم بمعصية فلا تجوز طاعتهم إياه فيها؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: «لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق» ولو أمرهم بشيء لا يدرون أينتفعون به أم لا، فينبغي لهم أن يطيعوه فيه إذا لم يعلموا كونه معصية؛ لأن اتباع الإمام في محل الاجتهاد واجب، كاتباع القضاة في مواضع الاجتهاد والله تعالى - عز شأنه الخ(کتاب السیر، فصل في بيان ما يندب إليه الإمام عند بعث الجيش أو السرية إلى الجهاد،ج7،ص99،ط: دار الکتب العلمیۃ)۔