السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
میراشادی نکاح سے ڈیڑھ ماہ بعد ہوئی میرے والد تب حیات تھے شادی کے چھ ماہ میں میرے شوہر کا رویہ بہت تکلیف دہ تھا اور میری بیٹی بھی ہونے والی تھی انہوں نے مارنے کی دھمکیاں دیں اور کچھ ایسے سنگین معاملات ہو گئے کہ مجھے خلع کا کیس کرنا پڑا ۔۔ لیکن اپنی بیٹی کے ہونے کے بعد بھی میں نے بہت کوششیں کیں اپنے شوہر کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لئے اور مسلسل کرتی ہی رہی لیکن انہوں نے کسی بات کا کوئی ریسپانس نہیں کیا میں نہیں چاہتی تھی دل سے اپنی بیٹی کے لئے لیکن اس نے کوئی کوشش نہیں کی۔۔۔ اب یونین کونسل سے بھی ڈگری ملی ہے تو اس بارے میں کیا حکم ہے ؟؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ ایک عقد ہے جس کی صحت کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول کر نا ضروری ہے لہذاسائلہ کے شوہر یا اسکے وکیل نے عدالت میں حاضرہو کر منہ زبانی یا خلع کے کاغذات پر دستخط کرتے ہوئے اس خلع پر رضامندی کا اظہار کیاہو تو ایسی صورت میں یہ خلع شرعاً درست ہو کر میاں بیوی کا نکاح ختم ہو چکاہے جس کے بعد سائلہ عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کر نے میں آزاد ہو گی البتہ اگر شوہر یا اسکی جانب سے مقرر کر دہ وکیل نےاس خلع پر رضامندی کا اظہار نہ کیا ہو بلکہ عدالت کی جانب سے یکطرفہ خلع کی ڈیگری جاری ہوئی ہو اور اس خلع لینے کی وجوہات میں اسباب فسخ نکاح میں سے کو ئی سبب بھی موجود نہ ہو تو اس یکطرفہ ڈگری سے میاں بیوی کا نکاح ختم نہیں ہو تا بلکہ برقرار رہا ہے اور اس بنیاد پر سائلہ کا دوسری جگہ نکاح کر نا بھی درست نہ ہو گا ۔
وفی قو لہ تعالی فان خفتم ان لا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فی ما افتدت بہ ( سورۃ البقرہ 229)
کما فی المبسوط للسرخسی : والخلع جائز عند السلطان وغیرہ لانہ عقد یعتمد التراضی کسائر العقود وہو بمنزلۃ الطلاق (ج:6 ص: 173 )
وفی رد المختار خلعھااو طلقہا بخمراو خنزیر او میتۃ ونحوھا مما لیس بمال وقع طلاق بائن فی الخلع (ج:3 ص:446 ناشر سعید)
وفی التاترخانیۃ واذا تشاق الزوجان وخافا ان لا یقیما حدود اللہ فلا باس بان تفدی نفسہا منہ بمال یخلعہا(ج:3 ص453ناشر رشیدیہ)