میری خلع لینے کی وجہ یہ بنی کی میرے شوہر نے مجھے بہت پریشان کیا ہواتھا، جس کی کچھ تفصیل آپ کے گوش گذار کرنا چاہتی ہوں ، مسائل تو بہت ہوئے لیکن میں صرف چند باتیں آپ کو بتانا چاہتی ہوں ، جس کی وجہ سے میں خلع لینے پر مجبور ہوگئی، ہم کرائے کے مکان میں رہتے تھے، اور وہ میرے بچوں کو مجھے اکیلا چھوڑ کر اپنے بہن کے پاس رہنے لگے تھے، دو سے تین ماہ تک میں اور میرے بچے اکیلے رہتے رہیں ، اور انہوں نے مجھے اور بچوں کو پلٹ کر پوچھا نہیں اور کوئی خرچہ وغیرہ بھی نہیں دیا، میں قریبی پرائیوٹ اسکول میں ٹیچر کی جاب کرتی تھی ، میرا گذارہ کرنا مشکل ہوگیاتھا، میں بہت پریشان ہوگئی تھی،اکیلی عورت دو بچوں کے ساتھ یہ میں جانتی ہوں یا ا اللہ جانتا ہے اور پھر میں بیمار ہوگئ، تو میں بچوں کے ساتھ اپنی والدہ کے گھر آگئی، ڈیڑھ سال یعنی 18 ماہ تک محمود نے ہماری کوئی خیر خبر نہیں لی، 18 ماہ بعد آنے کے بعد بات چیت کرکے گئے، اور پھر تین ماہ تک پلٹ کر کوئی خیر خبر نہیں لی ، یہ سلسلہ دو سے تین بار چلے جاتے تھے، پلٹ کر بچوں کو اور مجھے پوچھتے نہیں تھے، اور نہ ہی کوئی خرچہ دیتے تھے، ان وجوہات سے پریشان ہوکر میں نے عدالت میں خلع کی درخواست پیش کردی، جس پر کورٹ کے جج نے میرے سارے مسائل سن کر تقریباً چھ ماہ بعد خلع کی گرانٹ جاری کردی ،جج کے پوچھنے پر بھی شوہر نے کہا کہ: میں نہ ہی اسے چھوڑنا چاہتا ہوں اور نہ ہی میں خلع کے حق میں ہوں ، خلع ہونے کے بعد بھی اس نے پیپرز پر سائن نہیں کیے، مجھے خلع لیے ہوئے دو سال ہوگئے ہیں ، اور اب بچے بھی بڑے ہورہے ہیں، ان کا رجحان اپنے والد کی طرف بڑھ رہا ہے، اور وہ اپنے والد سے ملتے رہتے ہیں، اور جب اپنے والد سے مل کر آتے ہیں، تو بہت پریشان ہوجاتے ہیں، اور ان کے والد بھی اس بات کے خواہش مند ہیں کہ: ہماری صلح ہوجائے تاکہ بچے کسی ذہنی کوفت یا اذیت کا شکار نہ رہیں،ا ن سب باتوں کومدنطر رکھتے ہوئے اور بچوں کے مستقل کےلئے میں بھی چاہ رہی ہوں کہ: اس سے صلح کی کوئی گنجائش نکل آئے، لہذا میں آپ سے یہ جاننا چاہتی ہوں کہ شرعی طور پر قرآن وحدیث کی روشنی میں ایسا ممکن ہے تواس کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ برائے مہربانی جو بھی طریقہ ہے ،وہ آپ مجھے تحریری طور پر بتادیں ۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں واقعۃً سائلہ کے شوہر یا اسکی طرف سے مقرر کردہ وکیل نے عدالت میں حاضر ہو کر خلع کے کاغذات پر دستخط نہ کیے ہوں، بلکہ اس نے اس رشتہ کو برقرار رکھنے پر اصرار کیا ہو، مگر عدالت نے شوہر کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ خلع کا فیصلہ دے دیا ہو ،تو اگر چہ اس یک طرفہ فیصلہ سے شرعاً ان دونوں کا نکاح ختم نہیں ہوا بلکہ بدستور برقرار ہے، لیکن اب جب میاں بیوی دوبارہ باہمی رضامندی سے ساتھ رہنے پر آمادہ ہوں ،تو احتیاطا ًگواہوں کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ باضابطہ ایجاب وقبول کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنھما لا يجوز خلعھما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان و إنما الحكمان وكيلان لھما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع ( الی قوله ) وکیف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها اھ ( باب الحکمین کیف یعملان ،ج: 2، ص: 191، ط: سھیل اکیڈمی)
وفی البدائع: و أما رکنه فھو الإیجاب و القبول لأنه عقد علی اللطلاق بعوض فلا تقع الفرقة و لایستحق العوض بدون القبول اھ (باب الخلع، ج: 3، ص: 145، ط: سعید)