محترم مفتیان کرام! میں سید۔۔۔نے اپنی بیٹی سیدہ ۔۔۔ احمد کا نکاح مورخہ 2018-3-17 کو سید ۔۔۔ سے کیا تھا، نکاح کے بعد رخصتی عمل میں نہیں آئی تھی ، یعنی صرف نکاح بوجہ کا غذات کیا گیا تھا، کیونکہ لڑکا ملک سے باہر تھا، اور امیگریشن کے لئے کاغذات در کار تھے،بد نصیبی سے یہ نکاح قائم نہیں رہ سکا ،اور نکاح ہونے کے کچھ عرصہ بعد ہی کچھ ایسی وجوہات سامنے آئیں کہ نکاح ختم کر نا پڑا ہے، جس کے لئے ہم نے عدالت سے خلع کے لئے رجوع کیا۔عدالت میں جانے کی وجہ سے ہمیں لڑکے کے گھر والوں کی طرف سے کافی دھمکیوں کو بھی سامنا کرنا پڑا۔
طریقہ کار کے تحت عدالت نے تین نوٹس جاری کئے لڑکے کے نام جو وصول کئے گئے ، اور لڑکے کے والد صاحب عدات میں حاضر ہوئے، کیونکہ لڑ کا ملک سے باہر تھا، لیکن اس درمیان وہ ٹیلیفون کے ذریعے رابطہ میں رہا، دوران کیس اس نے لڑکی سے کہا کہ وہ اس سلسلے کو روکے گا نہیں، یعنی اگر تم خلع چاہتی ہو تو میں اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالونگا اور خلع ہونے دوں گا۔ لہذا تین مہینے کے عرصہ کے بعد عدالت نے خلع کا فیصلہ سنا دیا،جس کے کاغذات موجود ہیں، بعد ازاں لڑکا ملک میں آیا ا،ور ہم سے رابطہ کیا کہ میرے تمام ضروری کا غذات میرے حوالے کر دیں، اور وہ تمام سامان بھی جو نکاح میں تحائف کی صورت میں لیا اور دیا گیا ہے، جس کا ثبوت بھی موجود ہے۔ یاد رہے کہ لڑکی نے مہر کی رقم نہیں لی تھی۔ آپ مفتیانِ کرام سے رہنمائی درکار ہے، کیونکہ میں اپنی بچی کا نکاح دوسری جگہ کر رہا ہوں۔ (الحمد لله ) تمام صورت میں خلع واقع ہو چکی ہے، راہ نمائی فرمائیں۔ شکریہ!
وضاحت: سائل سے سوال میں درج پیراگراف نمبر (11) ” مدعی علیہ نے کئی مرتبہ مدعیہ کو فون پر الفاظ طلاق کہتے ہیں لیکن پھر وہ اس کی وجہ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہونا بتاتا ہے “ سے متعلق معلوم کیا گیا کہ انہوں نے کیا الفاظ استعمال کئے تھے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ الفاظ طلاق یہ ہوا کرتے تھے کہ " میں تمہیں طلاق دیدوں گا۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس میں فریقین کی باہمی رضامندی اور باضابطہ ایجاب و قبول شرط ہے، جبکہ سوال کے ساتھ منسلکہ خلع نامہ میں کوئی ایسی بات ذکر نہیں ہے، جس سے شوہر یا اس کے وکیل کے ساتھ بیوی کا با قاعدہ خلع کے عقد کر نا معلوم ہو، اس لئے مذکورہ خلع یکطرفہ ہونے کی بناء پر درست نہیں، اس لئے اس عدالتی خلع کے باوجود دونوں کا نکاح بدستور قائم ہے، لہذا اس خلع کو بنیاد بنا کر سائل کی بیٹی کا دوسری جگہ نکاح کرنا بھی شرعا ناجائز ہے۔ جبکہ سائل کے داماد نے فون پر جو الفاظ مختلف مواقع میں دہرائے ہیں وہ وعدہ طلاق اور دھمکی ہونے کی وجہ سے غیر مؤثر ہیں۔ تاہم اگر شوہر اپنی مرضی سے طلاق دیدے، یا خلع پر راضی ہو کر باقاعدہ اس کا عقد کر لے تو اس کے بعد بیوی کسی اور جگہ نکاح کر سکتی ہے۔
كما في الفتاوى الهندية: لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا اھ (1/ 384)۔
و في المبسوط للسرخسي: والخلع جائز عند السلطان وغيره لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود اھ (6/ 310)۔والله تعالى أعلم بالصواب