میرا سوال یہ ہے کہ میری بیوی نے عدالت سے خلع لی ہے جس میں میری رضامندی شامل نہیں۔ تفصیل کچھ یوں ہے کہ پچھلے سال فروری میں میری نوکری ختم ہوگئی، جس کے بعد میں آٹھ ماہ تک بے روزگار رہا۔ اس دوران میری بیگم نے اسکول میں نوکری کرنے کی مجھ سے اجازت مانگی جو کہ میں نے منع کردیا۔ نوکری ختم ہونےکے باوجود اللہ کے کرم سے تمام نان و نفقہ ادا کیا، کھانا ، کپڑے، رہائش اور بچے کے اخراجات پورے کیے، بیوی نے کہا کہ میں نوکری کروں گی جس پر میں نے منع کردیا، لیکن بیوی نے ضد بناکر گھر چھوڑدیا اور اپنی امی کے گھر کے پاس اسکول میں نوکری شروع کردی اور کہا اب یہیں پر گھر لوگے تو گھر بساؤں گی۔ اس دوران مجھے بچے سے بھی ملنے نہیں دیا گیا۔ پھر میں نے کورٹ میں بازو دعوی کا کیس کیا، جس کے جواب میں مجھ پر بیوی نے تنسیخِ نکاح برائے خلع کا کیس کیا اور جھوٹا دعوی کیا کہ ” میں نے اسے مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا اور میں شادی کے بعد بیوی کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر مارتا تھا اور میں نے بیوی کا اٹھائیس تولہ سونا بھی اپنے پاس رکھ لیا “ جو کہ سب جھوٹ تھا۔ میں عدالت میں پیش ہوا اور بھر پور دفاع کیا جس کے جواب میں پری ٹرائل میں عدالت نے بیوی کو دو ہفتے میں میرے گھر میں گزارنے کا کہا جس پر وہ گھر آ گئی۔ اس دوران ہمارے درمیان ازدواجی تعلقات بھی قائم ہوئے۔ میری بیوی گھر سے تمام معاملات طے کر کے گئیں( جس میں یہ شامل تھا کہ میں انہیں نوکری کرنے دوں گا اور ایک سال بعد ہم دوسری جگہ گھر لیں گے، اور یہ معاملات ہم نے منہ زبانی طے کیے تھے اور میں نے واضح کیا تھا کہ میں کسی شرائط نامہ پر دستخط نہیں کروں گا )۔ میرے گھر سے جانے کے تین دن بعد عدالت میں پیشی تھی، جہاں میری بیگم شرائط لکھ کر لائیں، وہ بھی اپنی مرضی کی ( ایسا ہمارے درمیان کچھ طے نہ ہوا تھا )۔ اس کے علاوہ بیگم کا کچھ گولڈ میرے پاس تھا جو طے ہوا تھا کہ ان کے گھر آنے پر میں واپس کردوں گا۔ لیکن کورٹ میں انہوں نے بتیس تولہ جھوٹ لکھوایا۔ شرائط میں جج کے سامنے بیوی نے کہا کہ میرا سارا سونا بھی یہیں کورٹ میں دو لیکن انہوں نے چونکہ جھوٹا دعوی کیا تھا لہٰذا جج کے سامنے میں مکر گیا، کیونکہ میں اگر گولڈ کا اقرار کرتا تو مجھے ڈر تھا کہ جج کہیں پورے بتیس تولہ کا الزام مجھ پر نہ ڈال دے، لہٰذا میں مکر گیا۔
نوٹ: مجھے اپنے بیگم کے گولڈ سے کوئی سروکار نہیں، نہ میری نیت اس کو ہڑپنے کی ہے، میں نے ان سے صرف یہ کہا کہ جھوٹا الزام واپس لو اور اپنا گولڈ لے لو۔ بہر حال میں نے شرائط نامہ پر دستخط کرنے سے منع کردیا ۔ جج نے مجھ سے کہا کہ آپ کی بیوی کو خلع دے دوں جس پر میں نے واضح کہا کہ انہوں نے مجھ سے خلع نہیں مانگی اور نہ میری مرضی اس میں شامل ہے۔ جج نے بیگم سے پوچھا اس نے ہاں میں سر ہلایا اور جج نے خلع دے دی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح سے خلع ہوجاتی ہے یا اب بھی وہ میرے نکاح میں ہے؟ دوسرا انہوں نے ابھی تک خلع کی ڈگری یونین کونسل میں جمع نہیں کرائی اور اگر وہ ڈگری میں خود جمع کرادوں، تاکہ پتا چلے کہ بیگم واپس آنا چاہتی ہیں یا نہیں اور میری بیوی کا نام نکاح نامہ اور نادرا سے ہٹ جائے تو کیا اس طرح کرنے سے خلع ہوجائے گی؟ متعدد بار اپنی بیوی کو کہہ چکا ہوں کہ اس طرح خلع نہیں ہوتی، میں ابھی بھی بیوی کو رکھنا چاہتا ہوں لیکن وہ واپس نہیں آرہی۔ براہِ مہربانی فتویٰ کی کاپی ای میل کردیں۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی سے باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جو کہ عموماً یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگریوں میں مفقود ہوتا ہے، چنانچہ ایسی ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجود شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا، بلکہ بد ستور برقرار رہتا ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگرواقعۃً سائل نےعدالت میں خلع پر رضامندی ظاہر نہ کی ہو ، توعدالت کی جانب سے یکطرفہ طورپرجاری کردہ ڈگری سے شرعاً خلع واقع نہیں ہوا، اورمیاں بیوی کانکاح بدستور برقرارہے۔ اسی طرح خلع کی عدالتی ڈگری یونین کونسل میں جمع کروانے یا رجسٹریشن منسوخ کروانے سےشرعی طور پر نکاح ختم نہ ہوگا، بلکہ نکاح اسی وقت ختم ہوگا جب شرعاً طلاق یا باہمی رضامندی سے خلع واقع ہو۔البتہ یہ بات واضح رہے کہ اگر میاں بیوی کے درمیان شدید نزاع اور کشیدگی ہو اور اصلاح کی تمام کوششیں ناکام ہو جائیں، تو شریعت نے ظلم و ضرر کے ازالے کے لیے علیحدگی کے راستے رکھے ہیں، اگرچہ اصل اور پسندیدہ حکم صلح جوئی اور رشتۂ نکاح کو برقرار رکھنا ہے۔لہٰذا سائل اور اس کی بیوی دونوں کو سنجیدگی کے ساتھ باہمی غلطیوں کو نظر انداز کر کے، خاندان کے معززافراد کے ذریعے مصالحت کی کوشش کرنی چاہئیے۔ خصوصاً بیوی کو چاہئیے کہ اگرشوہر نکاح باقی رکھنے، حقوق ادا کرنے اور اصلاح پر آمادہ ہے تو افہام وتفہیم، صبر اور تعاون کے ذریعے اپنے گھر اور بچے کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی کوشش کرے، کیونکہ بلا ضرورت رشتۂ نکاح توڑنا شریعت میں ناپسندیدہ امر ہے،جس سے بہرصورت بچناچاہئیے۔
کما فی أحکام القرآن للجصاص: قال أصحابنا أنھما لایجوز خلعھما إلا برضی الزوجین لأن الحاکم لا یملک ذلک فکیف یملکہ الحکمان (إلی قولہ) وکیف یجوز للحکمین أن یخلعا بغیر رضاہ و یخرجا المال عن ملکھا إلخ۔ (باب الحکمین کیف یعملان، ج 2، ص 191، ط: سہیل اکیڈمی)۔
وفی فتاوی التاترخانیۃ : فی المخلص والإیضاح:الخلع عقد یفتقر إلی الإیجاب والقبول یثبت الفرقۃ ویستحق علیھا العوض إلخ۔ (کتاب الطلاق الفصل السادس عشر فی الخلع، ج 5، ص 5، ط:زکریا)۔
و فی المبسوط للسرخسی: قال: و الخلع جائز عند السلطان و غیرہ؛ لأنہ عقد یعتمد التراضی کسائر العقود، و ھو بمنزلۃ الطلاق بعوض إلخ۔ (باب الخلع، ج 6، ص 173، ط: السعادۃ)۔