السلام علیکم! مفتی صاحب! میری والدہ کو شوگر ہے، اور میں ان کی شوگر چیک کرنے کیلئے ایک سینسر ان کی پیٹ پر لگانا چاہتا ہوں جو مسلسل پندرہ دن تک ان کے پیٹ پر چپکا رہے گا، غسل کے دوران بھی نہیں ہٹا سکتے ورنہ سینسر خراب ہوجائیگا، کیا اس صورت میں غسل ہوجائے گا؟
واضح ہو کہ فرض غسل میں سارے جسم پر پانی بہانا فرض ہے ،سوئی کے سرے کے برابر بھی جسم کا معمولی سا حصہ دھلنے سے رہ گیا ،تو فرض غسل نہ ہوگا،چنانچہ جسم پر اگر کوئی ایسی چیز لگی ہو، جو جسم کی سطح تک پانی پہنچنے میں رکاوٹ ہو اور اسے جسم سے اتارنے میں حرج بھی نہ ہو تاہو ،تو غسل فرض ہونے کی صورت میں اسے جسم سے اتارنالازم ہے، ورنہ غسل مکمل نہ ہوگا۔ جہاں تک غسل کے دوران سینسر کے جسم پر لگے رہنے کی بات ہے تو سی جی ایم سینسر نہ تو کوئی دوا ہے، اور نہ اسے جسم پر لگانا علاج ہے، بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ شوگر کی کیفیت کا اندازہ ہوتا رہے، جبکہ شوگر معلوم کرنے کا صرف یہی ایک ذریعہ نہیں ہے، اور نہ ہی شوگر کے ہر مریض کو یہ مشین استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، بلکہ دیگر آلات بھی شوگر چانچنے کےلئے میسر ہیں، اس لیے عام حالات میں یہ سینسر لگانا شرعی حاجت یا ضرورت کے مرتبے تک نہیں پہنچتا، بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ منفعت ، فائدہ یا سہولت کے درجے میں ہے، نیز اس سینسر کو جبیرہ قرار دے کر اس پر مسح کرنے سے بھی غسل پورا نہیں ہوگا، کیونکہ جبیرہ زخم کے اوپر لگایا جاتا ہے۔ غسل کے دوران اگر اس پر پانی بہانے سے پانی اس سینسر کے نیچے کھال تک پہنچ جاتا ہے، تو فرض غسل ہوجائے گا، لیکن اگر پانی نہ پہنچے تو پھر اس سینسر کا نکالنا ضروری ہے، محض اس سینسر کے قیمتی ہونے کی بناء پر اس کے اوپر سے پانی بہانے کی گنجائش نہ ہوگی، لہٰذا اس صورت میں غسل فرض ہونے کی صورت میں سی جی ایم سینسر جسم سے جدا کرکے غسل کرنا فرض ہوگا۔
کما فی الدر المختار: (ویجب) أی يفرض (غسل) كل ما يمكن من البدن بلا حرج إلخ (كتاب الطھارة، ج 1، ص 152،ط:سعيد)۔
وفی الھندیۃ:ولو ألزقت المرأة رأسها بطيب بحيث لا يصل الماء إلى أصول الشعر وجب عليها إزالته ليصل الماء إلى أصوله كذا في السراج الوهاج إلخ (الباب الثانی فی الغسل،ج 1، ص 13، ط: ماجدیة)۔
وفی بدائع الصنائع: (وأما) ركنه فھو إسالة الماء على جميع ما يمكن إسالته عليه من البدن من غير حرج مرة واحدة حتى لو بقيت لمعة لم يصبھا الماء لم يجز الغسل، وإن كانت يسيرة لقوله تعالى {وإن كنتم جنبا فاطهروا} [المائدة: 6] ، أي: طھروا أبدانكم، واسم البدن يقع على الظاهر، والباطن فيجب تطھير ما يمكن تطھيره منه بلا حرج، ولھذا وجبت المضمضة، والاستنشاق في الغسل، لأن إيصال الماء إلى داخل الفم، والأنف ممكن بلا حرج، وإنما لا يجبان في الوضوء لا، لأنه لا يمكن إيصال الماء إليه بل، لأن الواجب هناك غسل الوجه، ولا تقع المواجھة إلى ذلك رأسا، ويجب إيصال الماء إلى أثناء اللحية كما يجب إلى أصولھا، وكذا يجب على المرأة إيصال الماء إلى أثناء شعرها إذا كان منقوضا كذا ذكر الفقيه أبو جعفر الھندواني لأنه يمكن إيصال الماء إلى ذلك من غير حرج إلخ (کتاب الطھارۃ، ج 1، ص 34، ط: دار الکتب العلمیة)۔