میری بیٹی کی ڈھائی سال قبل شادی ہوئی تھی ، شادی کے ڈیڑھ سال بعد جب بچے نہ ہونے کی وجہ سے دونوں میاں بیوی نے طبی معائنہ کرایا تو داماد کی رپورٹس میں اُس کی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت صفر آئی، اور ڈاکٹروں نے اس کے صحیح ہونے کی اُمید نہیں دلائی، پھر میری بیٹی کے اصرار کرنے پر وہ واحد ممکن علاج کے لئے راضی ہوا، علاج میں میری بیٹی کو بھی خاصا جسمانی تکلیف سے گذرنا پڑا ،حالانکہ اس کی رپورٹس ٹھیک تھیں ،اس دوران داماد اور اس کے گھر والے دا ماد کو ڈاکٹر کو دکھانے میری بیٹی کو اپنے ہمراہ نہیں لے کر جایا کرتے تھے، جب علاج ختم ہوا، اور کوئی منضبط نتیجہ نہیں نکلا تو بیٹی کافی غم میں مبتلا رہی ،اور اس نے آنے والے وقت میں بچہ گود لینے کا ارادہ کیا اسی دوران اسے اچانک میڈیکل پرچہ کے ذریعہ پتہ چلا کہ اس کے شوہر کا کوئی ایسا آپریشن ہوا تھا پندرہ سال کی عمر میں جس میں ُاس کا ایک خصیہ (testes) نکال دیا گیا تھا، اور دوسرے کا بھی آپریشن کیا گیا تھا ، یہی وجہ تھی کہ اس کی اولاد نہیں ہو سکتی تھی، پھر میری بیٹی سے داماد اور اسُ کے گھر والوں نے یہ بات چھپا کر رکھی،پتہ چلنے پر اور داماد کا آپریشن کا اعتراف کرنے کے بعد بیٹی کا بھروسہ ٹوٹ گیا،اس دھوکہ کی وجہ سے اس کی زندگی خراب ہوئی ،اور اس سے ماں بننے کا حق چھین لیا گیا ، اس کا اور ہمارا ماننا ہے کہ یہ بات جاننا اس کا حق تھا کیونکہ یہ کوئی معمولی آپریشن نہیں تھا ،بلکہ وہ جس سے ان کی زندگی میں کافی اثرپڑا ، اب وہ خلع کے ذریعہ علیحدگی چاہتی ہے ،کیونکہ لڑکا طلاق دینے کے لئے آمادہ نہیں ہے، اور کہہ رہا ہے یہ گناہ ہے ، البتہ وہ خلع کے لئے راضی ہے مہر اور تحائف کے بدلے میں جو کہ ہم دینے کے لئے راضی ہیں، واضح رہے کہ شوہر ازدواجی رشتہ قائم کرنے کے قابل ہے پر بچہ ہونا نا ممکن ہے۔ سوال یہ ہے،(1) کیا ایسی صورت میں جب لڑکا باپ نہ بن سکتا ہو اور آپریشن کی بات جان بوجھ کر چھپائی گئی ہو، کیا لڑکی کا خلع لینا جائز ہے اور گناہ سے پاک ہے؟ (2)کیا اسلام میں شادی سے پہلے ایسے طبی معاملات کا چھپانا جائز ہے جن سے نکاح کے بنیادی مقاصد جیسے نسل بڑھانے پر فرق پڑتا ہو؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی پر حقیقت ہو اس طور پر کہ سائل کے داماد نے پندرہ سال کی عمر میں مذکور آپریشن کر وا یا ہو اور پھر شادی سے پہلے لڑکی اور اس کے خاندان والوں کو لڑکے اور اس کے والدین نے یہ بات نہ بتائی ہو بلکہ مخفی رکھی ہو ،اور ان کو اس آپریشن کی وجہ سے لڑکے کا اولاد کی صلاحیت سے محروم ہونا بھی معلوم ہو گیا تھا ،تو ایسا کرنا دھوکہ دہی پر مبنی عمل تھا جو کہ جائز نہیں تھا ،جس پر توبہ و استغفار لازم ہے ،جبکہ اولاد اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک اہم نعمت اور نکاح کے مقاصد میں سے ہے ،اس لیے اگر شوہر میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان اختلاف اس حد تک پہنچ چکا ہوں کہ ان کا ایک ساتھ رہتے ہوئے حدود اللہ کو قائم رکھنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں باہمی رضامندی سے خلع یا طلاق کے ذریعہ علیحدگی اختیار کی جا سکتی ہے ،اور اس کی وجہ سے امید ہے کہ بیوی گنہگار بھی نہ ہو گی ۔
کما قال تعالی: فإن خفتم ألا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فیما إفتدت بہ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا ( الآیۃ 228، سورۃ البقرۃ )۔
و فی الھدایۃ: و إذا تشاق الزوجان و خافا أن لا یقیما حدود اللہ فلا بأس بہ بأن تفتدی نفسھا منہ بمال یخلعھا بہ لقولہ تعالی (فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ ) فإذا فعل ذلک وقع بالخلع تطلیقۃ بائنۃ و لزمھا المال لقولہ ﷺ الخلع تطلیقۃ بائنۃ الخ ( باب الخلع ج: 2، ص:96 ، ط: انعامیۃ )۔
وفي بدائع الصنائع: لأنه سبب لصيانة النفس عن الفاحشة، وسبب لصيانة نفسها عن الهلاك بالنفقة، والسكنى، واللباس، لعجزها عن الكسب، وسبب لحصول الولد الموحد. وكل واحد من هذه المقاصد مفضل على النوافل الخ( کتاب النکاح ج:2،ص:229،ط: سعید)۔