نام رکھنے کا حکم

ضحی فاطمہ اور آیت نور نام رکھنے کا حکم

فتوی نمبر :
85611
| تاریخ :
2025-08-26
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

ضحی فاطمہ اور آیت نور نام رکھنے کا حکم

السلام علیکم
میں اپنی بیٹی کا نام ضحی فاطمہ یا آیت نور رکھنا چاہتا ہوں ان کے بارے میں بتائیں انکا مطلب کیا ہے اور کیا یہ نام بیٹی کے لیے صحیح رہے گے شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسی بچی کا نام اگرمحض " فاطمہ " رکھ دیا جائے تو یہ بلاشبہ درست اور ایک مبارک نام ہے ، جب کہ اس کے ساتھ لفظ " نور یا ضحی " کا اضافہ کرکےنور فاطمہ نام رکھنا بھی اگر چہ فی نفسہ جائز اور درست ہے،مگر اس سے مقصود اگر اہل تشیع و روافض کے ساتھ تشبیہ اور ان کی نقل ہو ، تو اس سے احتراز لازم ہے۔
نیز " ضحی " کے معنی چاشت کے وقت اور چڑھتے سورج کے آتے ہیں ، جبکہ آیت کامعنی نشانی اورعلامت ہے ، اس معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنابھی جائزہے ، تاہم بچی کا نام صحابیات یاکسی صالحہ عورت کے نام پر رکھنا زیادہ بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مرقاة المفاتيح : "وعن أبي الدرداء - رضي الله عنه - قال: «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم» " رواه أحمد، وأبو داود." (کتاب الاداب باب الاسامی ج: 8، ص: 526، ط: حقانیۃ)۔
و فی القاموس الوحید: الضحی: سورج کی روشنی، دن کا چڑھاؤ، دن چڑھنے کا وقت، چاشت، سورج الخ ( ص: 962، ط: ادارۃ اسلامیات )۔
و فیہ ایضاً: الآیۃ: علامت، نشان، خاص نشان ( ص: 144، ط: ادارۃ اسلامیات )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قائرات تبیک عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85611کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات