اصل میں میں ایک لڑکے کو پسند کرتی ہوں اور وہ بھی مجھے پسند کرتا ہے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو نکاح کی نیت سے چاہتے ہیں۔ ہم نے گھر میں بات کی تو اُس کے گھر والے مان گئے، لیکن میرے گھر والے نہیں مان رہے۔ وہ ذات (کاسٹ) کا مسئلہ بنا رہے ہیں۔ میری ذات پٹھان ہے اور اُس لڑکے کی سندھی ہے۔ میرے گھر والے کہہ رہے ہیں کہ سندھی لوگ ظالم، بدمعاش، نالائق، اور فراڈی ہوتے ہیں، عورتوں کو ظلم کا نشانہ بناتے ہیں، اور ان کے گھر کی خواتین گھروں میں کام کرتی ہیں۔ وہ لڑکا غریب ہے، پڑھا لکھا نہیں ہے۔ میرے گھر والے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس بہت پیسہ ہے، تم ایک امیر اور مالدار لڑکے کی حقدار ہو۔ اگر تم نے اس سے شادی کی تو تمہاری زندگی برباد ہو جائے گی، اور پھر ہمارے پاس مت آنا۔ اگر اپنی مرضی سے شادی کرو گی تو ہم تمہیں نہ قبول کریں گے، نہ اُس لڑکے کو، اور تم ہمیشہ کے لیے ہمارے لیے مر جاؤ گی۔ تم نے ایک گھٹیا اور نیچ خاندان کا لڑکا پسند کیا ہے، ہم اعلیٰ ذات کے ہیں اور وہ نیچ ذات کا ہے، ہمارا اُس سے کوئی جوڑ نہیں۔
حالانکہ ہم دونوں نکاح کرنا چاہتے ہیں، گھر والوں کی عزت اور خوشی کے ساتھ۔ وہ لڑکا اب جاب اور کاروبار کے لیے بھی کوشش کر رہا ہے، دعا کریں کہ اسے کچھ مل جائے۔ مجھے بتائیں میں کیا کروں؟ پلیز مجھے کسی مفتی صاحب سے رابطہ کروا دیں۔
واضح ہو کہ نکاح جیسے اہم معاملہ میں والدین خاندان اور برادری کے بڑوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے ، تاکہ یہ رشتہ مستقبل میں کسی بگاڑ، قطع تعلقی یا معاشرتی پریشانیوں سے محفوظ رہ سکے۔صورتِ مسئولہ میں سائلہ کو چاہیے کہ وہ اپنے والدین خاندان کو اعتماد میں لے کر ہی فیصلہ کرے، ان کی رضامندی اور مشورہ کو نظر انداز کرکے از خود جلد بازی میں جذباتی انداز میں فیصلہ کرنے سے گریز کرے، تاکہ آئندہ مسقبل کے حوالے سے کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
کما فی الھندیۃ : نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلا ولی عند أبی حنیفۃ و أبی ویوسف رحمھما اللہ تعالی فی ظاھر الروایۃ کذا فی التبیین سئل شیخ الإسلام عطاء بن حمزۃ عن امرأۃ شافعیۃ بکر بالغۃ زوجت نفسھا من حنفی بغیر إذن أبیھا و الأب لا یرضی و ردہ ھل یصح ھذا النکاح قال نعم إلخ ( کتاب النکاح ، ج 1 ص 287 ، ط مکتبۃ الماجدیۃ )-
وفی الدر المختار: باب الكفاءة من كافأه: إذا ساواه، والمراد هنا مساواة مخصوصة أو كون المرأة أدنى (الكفاءة معتبرة) في ابتداء النكاح للزومه أو لصحته (من جانبه) أي الرجل، لان الشريفة تأبى أن تكون فراشا للدنئ، ولذا (لا) تعتبر (من جانبها) لان الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش، وهذا عند الکل فی الصحیح الخ ( باب الکفاءۃ، ج: 3، ص: 48، ناشر: سعید )-
وفی بدائع الصنائع: وأما الثاني فالنكاح الذي الكفاءة فيه شرط لزومه هو إنكاح المرأة نفسها من غير رضا الأولياء لا يلزم حتى لو زوجت نفسها من غير كفء من غير رضا الأولياء لا يلزم. وللأولياء حق الاعتراض؛ لأن في الكفاءة حقا للأولياء؛ لأنهم ينتفعون بذلك ألا ترى أنهم يتفاخرون بعلو نسب الختن، ويتعيرون بدناءة نسبه، فيتضررون بذلك، فكان لهم أن يدفعوا الضرر عن أنفسهم بالاعتراض اھ (فصل شرط كفاءة الزوج في إنكاح المرأة الحرة، ج: 2، ص : 317، ناشر: دار الکتب العلمیۃ )-