نام اعلم شبیر ہے - اور عدالتی خلع کے بارے میں معلومات چاہیے ۔ میرا نکاح ڈیڈھ سال پہلے ہو چکا تھا اور رخصتی کو ایک سال ہوا ہے ۔ میرے نکاح کے دوسرے دن میرے چھوٹے سالے نے بغیر کسی وجہ کے مجھے گالی دے دی اور میری بیوی ، ساس اور بڑے سالے بھی کھڑے تھے ۔ اس کے بعد بھی بہت مسئلے پر ہماری شادی ہوئی ۔ شادی کو ایک سال ہوا ہے، لیکن دوبارہ بہت مسئلے پیدا کیے میری بیوی 5 مہینوں سے میکے بیٹھی ہے پریشان اور نہیں آسکتی اس کی وجہ سے بہت جرگے ہوئے، لیکن کے کچھ نہ ہو سکا - صد بات خلع تک پہنچ گئی کیونکہ میرا سسر اس سے بہت مجبور ہے ۔
میری بیوی مجھے کہتی ہے اس شادی کو آپ بچاوگے، کیونکہ وہ مجبور ہے، اگر میں عدالت میں کہو ں کہ میں خلع نہیں دیتا، کیونکہ میں نے آج تک اس کے حقوق ادا کیے ہیں . اور میری بیوی بھی نہیں چاہتی، لیکن وہ مجبور ہے تو کیا ہمارا نکاح ختم ہوگا یا نہیں -اگر میں کہوں میں خلع نہیں دیتا ؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ،جس کی صحت کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی شرعا ضروری ہے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل اگر خود یا اپنے وکیل کے ذریعہ اس خلع پر رضامندی کا اظہار نہ کرے ، تو ایسی صورت میں اس یکطرفہ خلع کی ڈگری کے اجراء کے باوجود میاں بیوی کا نکاح ختم نہ ہوگا ، بلکہ بدستور برقرار رہےگا ، لہذا سائل کے سسرال والوں کو چاہیئے کہ وہ بغیر کسی عذر شرعی ان کے درمیان تفریق نہ ڈالیں ،بلکہ انکا گھر بسانے کی فکر کریں، تاکہ مؤاخذہ اخروی سے بچا جاسکے ، جبکہ اس ڈگری کو بنیاد بناکر سائل کی بیوی کا کسی دوسری جگہ نکاح کرنا بھی شرعا درست نہ ہوگا ۔
كما في أحكام القرآن للجصاص : قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع (إلى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها اهـ (ج 3، ص153 ، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-
وفي الفتاوى التاتارخانية : الخلع عقد يفتقر الى الايجاب والقبول يثبت الفرقة ويستحق عليها العوض الخ (الفصل السادس عشر في الخلع، ج 3، ص 453، إدارة القرأن)-
وفي بدائع البدائع : أن الخلع في معنى المبارأة ؛ لأن المبارأة مفاعلة من البراءة والإبراء إسقاط فكان إسقاطا من كل واحد من الزوجين الحقوق المتعلقة بالعقد المتنازع فيه كالمتخاصمين في الديون الخ (فصل في الطلاق على مال، ج 3، 151، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)