نام رکھنے کا حکم

المیر اور ارتضی نام رکھنا کیساہے

فتوی نمبر :
85857
| تاریخ :
2025-09-04
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

المیر اور ارتضی نام رکھنا کیساہے

محمد المیر، محمد ارتضی، محمد حمزہ کیا یہ نام صحیح ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ ناموں میں سے ”حمزہ“ کے معنی شیر(بہادر) کے آتے ہیں ، لہذا یہ نام رکھنا نہ صرف جائز بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا جلیل القدر صحابی رضی اللہ عنہ کا نام ہونے کی بناء پر باعث برکت بھی ہے، جبکہ ”ارتضی“ کے معانی پسند کرنا، منتخب کرنا وغیرہ اور ”المیر“ کے معنی عربی زبان میں خوراک اور راشن کے آتے ہیں۔ لہذا معنی کے اعتبار سے تو ان دونوں(ارتضی، المیر) میں کوئی قباحت نہیں ہے، لیکن بچوں کا نام صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین اور امت کے نیکو کار افراد کے نام پر رکھنا زیادہ مناسب اور بہتر ہے، جس کا اہتمام چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن أبی داؤد: حدثنا عمرو بن عون (إلی قولہ) عن أبی الدرداء قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إنکم تدعون یوم القیامۃ بأسماءکم وأسماء آباءکم فأحسنوا أسماءکم، الحدیث(باب فی تغییر الاسماء، ج 2، ص 328، ط: امدادیۃ)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم و لا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لايفعل، كذا في المحيط الخ(الباب الثانی والعشرون فی تسمیۃ الأولاد الخ، ج 5، ص 362، ط: ماجدیۃ)۔
وفی المعجم الوسیط: (الحمزۃ) : الأسد، لشدتہ و صلابتہ الخ(ج 1 ص 197، ط: انتشارات ناصر خسرو مھران،ایران)۔
وفی المنجد: المیر۔ کھانا، خوراک۔(ص 984، ط: دارالاشاعت)۔
وفی مصباح اللغات: ارتضاہ۔ لخدمتہ ولصحبتہ : پسند کرنا۔(ص 297، ط: سید احمد شھید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالصمد فرید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85857کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات