خلع کے بعد کیا اسی عورت سے نکاح کی گنجائش موجود ہے ؟ کیا جیسا کہ حنفی مسلک میں تین طلاق کے بعد دوبارہ نکاح اسی صورت میں ہوگا تاوقتیکہ کہ متعلقہ عورت کی اپنے دوسرے شوہر سے بھی طلاق ہو چکی ہو یا دوبارہ نکاح کے بعد بیوہ ہو چکی ہو ۔ کیا یہی شرائط خلع کے ذریعے علیحدگی پر بھی لاگو ہوں گی ۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ،جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے،لہذا اگر میاں بیوی کے درمیان باہمی رضامندی سے خلع ہو جائے ،تو اس خلع سے بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر دونوں کا نکاح ختم ہو جاتا ہے، جس کے بعد دوبارہ ایک ساتھ رہنے پراگر وہ دونوں باہم رضامند ہو جائیں، تو ایسی صورت میں باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ با ضابطہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدید نکاح کر کے ساتھ رہ سکتے ہیں، لیکن اس تجدید نکاح کے بعد شوہر کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا،چنانچہ جب کبھی وہ مزید دو طلاقیں بھی دے دے گا، تو اس سے بیوی پر مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو جائے گی۔
کما فی الدر المختار: (و) حکمہ أن (الواقع بہ) ولو بلا مال (وبالطلاق) الصریح (علی مال طلاق بائن) الخ۔ (کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:5،ص:93،ط:رشیدیۃ)۔
وفی الدر المختار: (قوله: و شرطه كالطلاق) و هو أهلية الزوج و كون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول الخ۔(کتاب الطلاق،باب الخلع،ج:3،ص:441،ط:سعید)۔
وفی الفتاوی الھندیہ: إذا كان الطلاق بائناً دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها الخ۔ (كتاب الطلاق، الباب السادس ج:1، ص: 473، ط: دار الفكر)۔
و في بدائع الصنائع : و أما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك ، و زوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر ؛ لقوله عز وجل فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ۔ (فصل وأما حكم البائن،ج: 3،ص:187،ط: سعيد)۔