السلام علیکم! میرے ایک دوست نے مجھ سے اپنی غلطی کے بارے میں فتویٰ پوچھنے کو کہا۔ وہ یہ کہ: اس نے اپنی بیوی کے ساتھ وطی فی الدبر کی ہے اور کسی نے اس کو بتایا ہے کہ: وہ اس کی وجہ سے تجدید نکاح کرے، کیونکہ ہمیں صرف آگے سے جماع کرنے کی اجازت دی گئی ہے، چاہے آگے سے آکر کرے یا پیچھے سے، اس مسئلہ میں اسے کیا کرنا چاہیے ؟
اگرچہ مذکور حرکت و فعلِ شنیع کے ارتکاب سے نکاح پر تو کوئی اثر نہیں پڑا، وہ حسب سابق باقی و برقرار ہے ،مگر یہ عمل فطرتِ سلیمہ کے خلاف اور شرعا نا جائز و حرام ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے مرتکب کو ملعون تک قرار دیا گیا ہے، اس لئے سائل کے دوست پر لازم ہے کہ: وہ آئندہ کے لیےاس ناجائز و حرام فعل سے مکمل احتراز کرے، اور جو گناہ ابھی تک سرزد ہو چکا ہے، اس پر ندامت کے ساتھ بصدق دل توبہ واستغفار بھی کرے۔
کما فی سنن أبي داود: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ملعون من أتى امرأته في دبرها» اھ (2/ 249)
وفي سنن ابن ماجة: عن خزيمة بن ثابت، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله لا يستحيي من الحق، ثلاث مرات، لا تأتوا النساء في أدبارهن» اھ (1/ 619)