السلام علیکم
میری عمر 21 سال ہے میں شادی شدا ہو۔ دسمبر 2022 میںں میری شادی ہوئی تھی۔ یہ محبت کی شادی تھی لیکن اب میں اس شادی سے خوش نہیں ہوں۔ میں شادی کے آغاز سے ہی مشکلات کا سامنا کر رہی ہو۔ میری ایک بیٹی ہے جس کی عمر 1 سال 9 ماہ ہے۔ اسں شادی میں امن اور پیار نہیں ہے یہ صرف ایک رشتہ ہے جسے ہم گھسیٹ رہے ہیں اور ہم روم میٹ کی طرح ہیں میں صرف اس کی ضروریات پوری کر رہی ہوں اور اپنا فرض ادا کر رہی ہوں لیکن میں خوش نہیں ہوں اور مجھے ذہنی طور پر تشدد اور جسمانی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے وہ صرف اپنی طاقت دکھانا چاہتا ہے اس نے کبھی بھی شوہر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں میں اس معاملے میں اپنے گھر والوں اور سسرال والوں کو کئی بار شامل کرتی ہوں لیکن وہ ہمیشہ مجھے صبر کرنے کو بولتے ہے کہ وہ مرد ہے اور مردوں کی عادت ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ صبر کا مطلب کیا آپ کو ذہنی ذیادتی اور ذلت برداشت کرنا پڑے گا کیا اسلام میں یہی سکھایا ہے؟ وہ اکثر میرے کیردار اور میری شکل و صورت پر بولتا ہے اور میرا مذاق اڑاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں مذاق کر رہا ہو۔اور اس کا رویہ میری بیٹی کے ساتھ بھی اچھا نہیں ہے۔ تو میںں ان حالات میں کیا کروں؟ کیا اس حالت میں خلع جائزہے؟
میں آپ کے جواب کا انتظار کروں گی۔
جزا اللہ
سائلہ کا بیاں واقعہ درست اور حقیقت پر مبنی ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہے ، تو ایسی صورت میں شوہر کا مذکور رویه انتہائی نامناسب ہے ، بلکہ بیوی کی حق تلفی کی وجہ سے وہ گناہ گار بھی ہو رہا ہے ، جس پر اسے بصدق دل توبه و استغفار کرتے ہوئے آئندہ بیوی اوربچی کے حقوق کی فکر کرنی چاہئیے۔ اور اب تک اس معاملہ میں جو کوتاہی سرزد ہوئی ہے ، اس پر بیوی سے معافی تلافی بھی کرنی چاہئے ، جبکہ سائلہ کو بھی چاہئیے کہ اس سلسلہ میں اگر ان کی طرف سے کوئی کمزوری پائی جاتی ہوں تو ا سے بھی دور کرنے کی کوشش کریں ، اور خاندان کے بڑوں کے ذریعہ صلح و مصالحت کی کوئی صورت نکالیں ۔ لیکن اگر ہر ممکن کو شش کے باوجود شوہر کا رويہ نہ بدلے اور ایسی حالت میں سائلہ کے لیے اس شوہر کے ساتھ اللہ تبارک و تعالی کی جانب سے بیان کی گئی حدود کی پاسداری کرتے ہوئے نباہ ممکن نہ ہو، اور اسے اس علیحدگی کے بعد اس سے کسی بڑے مفسدہ کا اندیشہ نہ ہو تو وہ شوہر سے طلاق و خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ شرعا وہ اس مطالبہ پر گناہ گار بھی نہ ہوگی۔
كما في سنن ابي داود عن حليم بن معاوية القشيرى عن ابيه قال : قلت : یا رسول الله ما حق زوجة احدنا عليه ؟ قال : ان تطعمها إذا طعمت وتكسوها إذا اکتسيت - أو : اکسبت - ولا تضرب الوجه۔ ولا تقبح ولا تهجر الا في البيت (باب في حق المرأة على زجها . ج :1 ص: ۸۹۹،ح : ۳۱۴۲)
وفي سنن أبي داود عن عائشة رضى الله عنها أن حبيبة بنت سهل كانت عند ثابت بن قيس بن شماس فضربہا فکسر بعدہا ،فات النبی صلی اللہ علیہ اسلم بعد الصبح فاشتکلتہ الیہ فدعا النبی ثابتا فقال خذ بعض مالہا و فارقہا فقال : یصلھ ذٰلک رسول اللہ ؟ قال نعم ۔قال فانی اصدقتہا حدیقتین و ھما بیدھا فقال رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ و سلم : خذھما ففارقہا ۔(باب فی الخلع،ج : ۱،ص: ۹۳۳،ح : ۲۲۲۶)
وفي الشامی تحت قوله : ولا بأسه عند الحاجة للشقاق بعدم الوفاق) أى لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم . وفي القهستاني عن مشرح الطحاوى : السنه إذا وقع بين الزوجين اختلاف ان يجتمع اهلهما لتصالحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع اهـ .( باب الخلج ج : ٣ ص:۴۴۱۔ م :السعيد )