السلام علیکم
میری چھوٹی بہن نے اپنے شوہر سے عدالت کے ذریعے خلع لیا ہے جو ہو بھی گیا ہے۔ پھر پوچھنا ہے کہ اس کا شوہر نہ تو عدالت آیا نہ اس نے کوئی دستخط کیے اب بہن کہیں اور شادی کرنا چاہ رہی ہے اس میں کیا کرنا چاہئیے؟ شوہر نہ آیا نہ بات کی، ایک بیٹا بھی ہے اسے بھی ملنے نہیں دے رہا ،بہن شادی کرنا چاہ رہی ہے۔ بار بار سمجھانے پر بھی وہ سمجھ نہیں رہی ،بول رہی ہے خلع ہو گیا ہے ۔کسی کی بات نہیں سن رہی ایسے میں ہم لوگ پریشان ہیں رہنمائی کریں ،ہماری بہن کو کیسے سمجھائیں۔
تنقیح : سائلہ نے یہ نہیں لکھا کہ اس کی بہن نے عدالت سے کن وجوہات کی بنا پر حاصل کیا ہے تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ۔
جواب تنقیح سائلہ کی بہن اور شوہر تقریباً ڈھائی سال تک الگ الگ کمرے میں رہ رہے تھے زوجین والا تعلق نہیں تھا ۔نفقہ بھی کم یا زیادہ بہر صورت ملتا تھا، مزید بضد ہے کہ میں کہیں اور نکاح کرنا چاہ رہی ہوں۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جسکی صحت کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی ضروری ہے جو کہ یکطرفہ عدالتی خلع میں عموما ًیہ شرط مفقود ہوتی ہے ،جسکی وجہ سے ایسی ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجو د شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا، بلکہ حسب سابق قائم رہتا ہے،لہذا صورت مسؤلہ میں بھی سائلہ کی بہن کی جانب سے خلع لینے کی وجہ اگر محض دوسری جگہ نکاح کرنا ہو جبکہ شوہر کی بیوی کا نان نفقہ ادا کر رہا ہو تو اسباب فسخ نکاح کی عدم موجودگی میں صرف مذکور وجہ کو بنیاد بنا کر لیا گیا یکطرفہ عدالتی خلع شرعا ًمعتبر نہیں اور اس کی وجہ سے سائلہ کی بہن کا نکاح ختم نہیں ہوا بلکہ بدستور برقرار ہے اور اس ڈگری کو بنیاد بنا کر کسی دوسری جگہ نکاح درست نہ ہوگا ،اس لیے سائلہ کی بہن کو شرعی طریقہ کار اور شرائط کے مطابق طلاق یا خلع لیے بغیر دوسری جگہ نکاح کرنے سے احتراز لازم ہے۔
کما فی التنزیل العزیز: اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪-فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ-وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْــٴًـا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ-فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِۙ-فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖؕ-تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَاۚ-وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(229)
کما في المبسوط للسرخسی: (قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود اھ(ج :5،ص:173)
وفی فتاوی التاتارخانیۃ : فی المخلص والایضاح:الخلع عقد یفتقر الی الایجاب والقبول یثبت الفرقۃ ویستحق علیھا العوض الخ ( ج5 ص5)