السلام علیکم،
عنوان: عمرہ کے دوران والد صاحب کے مثانے کے عارضے کے متعلق شرعی رہنمائی،
میں اپنے والد صاحب کے ساتھ عنقریب عمرہ کا سفر کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ ان کی عمر 69 سال ہے اور انہیں مثانے کا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے انہیں بار بار اور بعض اوقات بے قابو پیشاب کی حاجت محسوس ہوتی ہے۔
مجھے ان کی راحت اور احرام کی حالت میں مناسک کی ادائیگی کے حوالے سے تشویش ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ طہارت کی حالت برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے، لیکن ان کی طبی حالت کے پیش نظر، وہ بے قابو پیشاب کی صورت میں ایک ڈائپر پہننے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ میرے والد صاحب کی اس صورت حال کے بارے میں اسلامی حکم اور رعایت کیا ہے؟ خاص طور پر، کیا انہیں اس طبی مجبوری کی بنا پر احرام کی حالت میں ڈائپر پہننے کی اجازت ہے؟
میری تحقیق کے مطابق، میں نے سمجھا ہے کہ عمرہ کے دوران طبی ضرورت کے لیے ڈائپر پہننا عام طور پر جائز ہے?
حالت احرام میں کسی ایسی چیز کا پہننا جائز نہیں جو بدن کی ہیئت پر سلا ہوا ہو ،لہذا اگر ڈائپر انڈروئیر کی طرز پر سلا ہواہو تو حالت احرام میں اسے پہننا درست نہیں، اگر کسی نے پہن لیا تو ایک رات یا ایک دن پہننے کی صورت میں ایک دم اور اس سے کم کی صورت میں صدقہ دینا لازم ہوگا ،لیکن اگر ڈائپر سلا ہوا نہ ہو تو اگرچہ بلا ضرورت اسکو پہننا بھی مکروہ ہے، تاہم بوقت ضرورت عذر کی صورت میں اس کے پہننے کی گنجائش ہے ،لہذا سائل اگر والد صاحب کو احرام کی حالت میں ضرورت شدیدہ کے موقع پر بغیر سلا ہوا ڈائپر پہنادے تو اس کی اجازت ہوگی ۔
کما في عمدة القاري شرح صحيح البخاري: ومما يستنبط منه جواز اعتكاف المستحاضة، وجواز صلاتها لأن حالها حال الطاهرات، وأنها تضع الطست لئلا يصيب ثوبها أو المسجد وأن دم الاستحاضة رقيق ليس كدم الحيض، ويلحق بالمستحاضة ما في معناها كمن به سلس البول والمذي والودي، ومن به جرح يسيل في جواز الاعتكاف الخ، ومما يستنبط منه جواز الحدث في المسجد بشرط عدم التلويث اھ(باب الاعتكاف للمستحاضة، (ج: 3، ص: 280)
وفی غنية الناسك:و الحرام من لبس المخیط اللبس المعتاد،وھو ان لا یحتاج فی حفظہ عند الاشتغال بالعمل الی تکلف،وضدہ ان یحتاج الیہ بان یحمل ذیل قمیصہ مثلاً اعلی،وجیبہ اسفل،ص: 86۔)
وفی الدر المختار: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمناً يتوضأ ويصلي فيه خالياً عن الحدث (ولو حكماً)؛ لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرةً (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقةً)؛ لأنه الانقطاع الكامل.(وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في : ﴿لدلوك الشمس﴾ [الإسراء: 78] (ثم يصلي) به (فيه فرضاً ونفلاً) فدخل الواجب بالأولى، (فإذا خرج الوقت بطل اھ (1/305) کتاب الطہارۃ، مطلب فی احکام المعذور)۔
وفی الفتاوی الہندیہ: شرط ثبوت العذر ابتداءً أن یستوعب استمراره وقت الصلاة کاملاً، وهو الأظهر، کالانقطاع لایثبت مالم یستوعب الوقت کله الخ، المستحاضة ومن به سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة ويصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل هكذا في البحر الرائق. ، ویبطل الوضوء عند خروج وقت المفروضة بالحدث السابق. هكذا في الهداية وهو الصحيح. هكذا في المحيط في نواقض الوضوء الخ،إذا کان به جرح سائل وقد شد علیه خرقةً فأصابها الدم أکثر من قدر الدرهم، أو أصاب ثوبه إن کان بحال لوغسله یتنجس ثانیاً قبل الفراغ من الصلاة، جاز أن لا یغسله وصلی قبل أن یغسله وإلا فلا، هذا هو المختار."كتاب الطهارة، الباب السادس1/41،40)