سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
محترم مفتی صاحب!
میرا سوال ازدواجی تعلق سے متعلق ہے۔ میری اہلیہ بعض اوقات ازدواجی تعلق کے دوران مکمل تسکین کے لیے ایک مخصوص طرزِ عمل کی خواہش ظاہر کرتی ہیں۔ مجھے وہ عمل ذاتی طور پر پسند نہیں، لیکن وہ اسی سے خوش ہوتی ہیں اور ان کی تسکین اسی سے مکمل ہوتی ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں صرف اپنی اہلیہ کی خوشی اور ازدواجی سکون کے لیے یہ عمل انجام دوں، تو کیا یہ شریعت کی رو سے جائز ہے یا مکروہ/ناجائز شمار ہوگا؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہی اقوال کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس کی بیوی ازدواجی تعلق قائم کرتے ہوئے سائل سے کونسے عمل سر انجام دینے کا مطالبہ کر تی ہے تاکہ اس کے مطا بق جواب دےدیا جا تا ، تاہم ازدواجی تعلق قائم کرتے وقت میاں بیوی شرعی حدود میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے اطمنان اور تسکین کی خاطر کوئی بھی جائز اورمباح طریقہ اختیار کرسکتے ہیں ،لہذا بیو ی سائل سےاگر کسی مباح عمل کا مطالبہ کرتی ہو تواس کے اطمنان کی خاطر سائل کیلئے وہ عمل سرانجام دینے کی گنجائش ہو گی ، ورنہ مکمل وضاحت کرکے مکرر معلوم کیا جاسکتاہے ۔
وفی قولہ تعالی فاتوا حرثکم انی شئتم الخ(سورۃ البقرہ 223)
وکمافی تفسیر ابن کثیرقال جاء رجل ابن عباس وقال کنت اتی اھلی فی دبرھا وسمعت قول اللہ نسائکم حرث لکم فاتواحرثکم انی شئتم قائمۃ وقاعدۃ ومقبلۃ ومدبرۃ فی اقبالھن لا تعدوا ذالک الی غیرہ(ج:1 ص292 ،293 )
وفی مشکاۃ المصابیح وعن ابی ھریر ۃ قال قال رسول للہ ؐ ملعون من اتی امراتی فی دبرھارواہ احمد وابوداد(ج:2 ص:253 ناشر آرام مقاتل باغ کراچی)
وفی الفتاوی الھندیۃ فی النوازل اذا ادخل الرجل ذکرہ فی فم امراتہ قد قیل یکرہ کذا فی الذخیرۃ (ج:5 ص:953 ناشر ماجیدیہ)
وفی الخانیۃ اذا مص الرجل ثدی امراتہ وشرب لما تحرم علیہ لماقلنا انہ لا رضاع بعد الانفصال الخ (باب الرضاع ج:1 ص:417 ما جیدیہ)