میرا جدہ میں ایک کانفرنس میں شرکت کرنا طے ہے، جس کے تمام اخراجات ایک دواساز (۔۔۔۔) کمپنی برداشت کر رہی ہے۔ کانفرنس کے بعد ہم عمرہ ادا کریں گے، جس کے اخراجات بھی اسی دواساز کمپنی کی طرف سے ہوں گے۔ کیا اس طریقے سے عمرہ ادا کرنا جائز ہے؟
نیز اگر میں اپنے اہلِ خانہ کو بھی اپنے ساتھ لے جانا چاہوں اور ان کے تمام اخراجات خود برداشت کروں، تو کیا ان کا بھی عمرہ ادا کرنا درست ہوگا؟براہِ کرم اس بارے میں شرعی رہنمائی/فتویٰ عطا فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی اور شرعی خرابی نہ پائی جائے تو سائل اور اس کے اہلِ خانہ کا عمرہ ادا کرنا درست ہے،اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
کمافی الصحیح البخاری: عن أبي هريرة رضي الله عنه:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (العمرة إلى العمرة كفارة لما بينهما، والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة)(باب وجوب العمرۃ وفضلھا،ج:1،ص:897،رقم:1773،م:البشرٰی۔)