محترم مفتی صاحب! امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔
میرے چند سوالات ہیں جن کے جوابات میں شریعت اور دین کی روشنی میں رہنمائی چاہتا ہوں۔
1️⃣ قسم کا کفّارہ کیا ہے؟
2️⃣ کسی کو یقین یا بھروسہ دلانے کے لئے قرآن اٹھانا کیا یہ درست ہے؟ جیسے کہنا کہ “مجھے آپ پر بھروسہ ہے” اور قرآن ہاتھ میں اٹھا لینا۔
3️⃣ میں نے تقریباً دو ہزار پانچ یا چھ کے درمیان کسی سے کہا تھا کہ “مجھے آپ پر بھروسہ ہے”، اور اس بھروسے کو یقین دلانے کے لئے قرآن اٹھایا تھا۔اُس وقت نیت صرف یقین دلانے کی تھی، قسم کھانے کی نہیں۔بعد میں ایک عالم نے کہا کہ اس پر کوئی کفّارہ نہیں ہوتا، لیکن میرے دل میں بےچینی ہے .
برائے کرم رہنمائی فرمائیں: کیا اس کا کفّارہ واجب ہوگا یا نہیں؟
4️⃣ منت مانی کہ میرا فلاں کام ہو جائے تو میں روزہ رکھوں گا، مگر جب کام پورا ہوگیا تو روزہ نہیں رکھ سکا .اب کیا حکم ہے؟
5️⃣ کسی شخص کے پیسے میرے پاس تھے، وہ بیمار تھا، پھر رابطہ نہ ہوسکا، میں نے وہ پیسے خرچ کر لیے، اب وہ شخص نہ مل رہا ہے اور نہ گھر کا پتہ ہے اس صورت میں کیا کرنا چاہیئے ؟جزاکم اللہ خیراًدعاؤں میں یاد رکھئے گا۔والسلام
سوالنامہ میں مذکورہ سوالات کے جوابات ترتیب وار درج ذیل ہیں:
(1):اگر کسی شخص نے مستقبل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائی، اور پھر اس نے اپنی قسم کی خلاف ورزی کرکے قسم توڑ دی تو اس شخص کے ذمہ قسم کا کفارہ لازم ہو جاتا ہے، اور قسم کا کفارہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا، یا اس کو متوسط درجہ کے کپڑے پہنانا ۔ اور اگر ان دونو ں کی وسعت و قدرت نہ ہو تو تین دن مسلسل روزے رکھناہے(ماخذہ التبویب:فتوی نمبر:40197)
(2):اگر کسی شخص کو یقین دلانے اور مطمئن کرنےکےلئے قرآن کریم اٹھانا ہی ضروری ہو اور اس کے بغیر یقین نہ آتا ہو تو ایسی صورت میں ضرورت کے موقع پر یقین دلانے کےلئے حلف اٹھانے کی گنجائش ہے۔تاہم بغیر ضرورت کے بار بار قسمیں اٹھانا قطعاً مناسب نہیں۔
(3):قرآن کریم ہاتھ میں اٹھاکر صرف یہ کہنا کہ"مجھے آپ پر بھروسہ ہے"یہ شرعاً قسم نہیں ہے،اس لئے اس کا کفارہ بھی واجب نہیں۔البتہ اگر دلی اطمینان کےلئے صدقہ خیرات کیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں،بلکہ بہتر ہے۔
(4):اس کا حکم یہ ہےکہ کہ آپ پر ایک دن کا روزہ رکھنا لازم ہے جو آپ کسی بھی دن رکھ سکتے ہیں۔
(5):ایسی صورت میں اصل مالک کی تلاش میں پوری کوشش کریں،اصل مالک تک یا اس کے اعزہ واقارب(ورثاء) تک پہنچانے کی پوری کوشش کرنا لازم ہے ،اور اگر کسی بھی طرح ان کا علم نہ ہوسکے تو اس رقم کو اصل مالک کی طرف سے صدقہ کردیں۔البتہ اگر کبھی اصل مالک مل جائے اور اپنی رقم کا مطالبہ کرے تو اسے واپس لوٹانا لازم ہوگا،اور آپ کو صدقہ کا ثواب ملے گا۔
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (2/ 53):
«قال: محمد - رحمه الله تعالى - في الأصل لو قال: والقرآن لا يكون يمينا ذكره مطلقا، والمعنى فيه، وهو أن الحلف به ليس بمتعارف فصار كقوله: وعلم الله، وقد قيل هذا في زمانهم أما في زماننا فيكون يمينا، وبه نأخذ، ونأمر، ونعتقد، ونعتمد، وقال: محمد بن مقاتل الرازي لو حلف بالقرآن قال: يكون يمينا، وبه أخذ جمهور مشايخنا رحمهم الله تعالى كذا في المضمرات.»
کما فی الدر المختار: وقال العینی وعندی ان المصحف یمین لاسیما فی زماننا. (۳/ ۷۱۳)
وفی رد المحتار: تحت قولہ وقال العینی الخ) عبارتہ وعندی لو حلف بالمصحف أو وضع یدہ علیہ وقال وحق ہذا فہو یمین ولا سیما فی ہذا الزمان الذی کثرت فیہ الأیمان الفاجرۃ ورغبۃ العوام فی الحلف المصحف. (۳/ ۷۱۳)
وفی الہندیۃ: لو حلف بالقرآن قال یکون یمینا وبہ اخذ جمہور مشایخنا رحمہم اللہ تعالٰی. (۲/ ۵۳)
’’اگر میں نے اس کام کو دوبارہ کیا تو میں اللہ اور اس کے رسول کا بڑا دشمن ہوں گا‘‘کہنے کا حکم
یونیکوڈ قسم کا کفارہ 0