السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا سوال ازدواجی معاملات کے متعلق ہے۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
1. میری زوجہ کو شروع سے جماع (penetration) سے لطف نہیں آتا اور نہ ہی اس سے انزال (orgasm) ہوتا ہے، البتہ clitoris کی بیرونی تحریک سے اسے لذت بھی ملتی ہے اور انزال بھی ہو جاتا ہے۔
کیا شوہر کے لئے بیوی کو اس طریقے سے لذت دلانا شرعاً جائز ہے؟
2. حیض کے دنوں میں بھی بعض اوقات بیوی کو جنسی خواہش محسوس ہوتی ہے اور وہ clitoris پر بیرونی تحریک کے ذریعے لذت حاصل کرنا چاہتی ہے۔
کیا حیض کے دوران بیوی کے اس حصے کی تحریک دے کر اس کا انزال کروانا جائز ہے؟
3. حیض کے دوران اگر شوہر کو ضرورت محسوس ہو تو وہ بیوی کے ہاتھ کے ذریعے اپنی شہوت پوری کر لیتا ہے (بغیر جماع کے اور بغیر عورت کی شرمگاہ کو چھوئے ہوئے)۔
کیا اس طرح بیوی کے ہاتھ سے شوہر کا انزال کروانا جائز ہے؟
4. کیا حیض کے دوران ایسا کرنا جائز ہے کہ شوہر بیوی کے جسم کے باہر صرف اس کے کولہوں کے درمیان (بغیر دخول) رگڑ کر انزال کر لے؟
یعنی صرف جسمانی rubbing، نہ دخول اور نہ عورت کی شرمگاہ کو چھونا؟
ان تمام صورتوں میں شرعی حکم واضح فرما دیں:
کیا یہ اعمال جائز، مکروہ یا ناجائز ہیں؟
اگر ان میں سے کوئی جائز نہیں، تو حیض کے دنوں میں میاں بیوی اپنی ضرورت کو شرع کے مطابق کیسے پوری کر سکتے ہیں؟
جزاکم اللہ خیراً
والسلام
واضح ہو کہ شوہر کے لیے حالتِ حیض میں بیوی کے ناف سے لیکر گھٹنوں تک کے حصہ سے بلا کسی حائل فائدہ اُٹھانا تو جائز نہیں، البتہ اگر درمیان میں کوئی حائل مثلا کپڑا و غیرہ ہو تو کولہو ں کے درمیان انزال کی گنجائش ہوگی ، نیز ایسی حالت میں اگر شوہر کو ضرورت محسوس ہو تو بیوی کے ہاتھ کے ذریعہ شوہر کا انزال کروانا بھی جائز ہے۔ جبکہ شوہر کے لئے بیوی کو بیرونی تحریک کے ذریعے لذت دلانا اور انزال کروانا بھی درست ہے ،شرعاً اس میں مضائقہ نہیں ، خاص طور پر جب بیوی جماع سے لطف اندوز نہیں ہوتی ۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُن﴾(البقرة: 222)۔
وفی مشكاة المصابيح: وعن معاذ بن جبل قال: قلت: يا رسول الله ما تحل لي من امرأتي وهي حائض؟ قال: «ما فوق الإزار والتعفف عن ذلك أفضل» اھ (باب ما یحل فی الحیض،ج:۱ ص:۱۷۳) .
وفی حاشية ابن عابدين: ويمنع الحيض قربان زوجها ما تحت إزارها كما في البحر (قوله يعني ما بين سرة وركبة) فيجوز الاستمتاع بالسرة وما فوقها والركبة وما تحتها ولو بلا حائل اھ (1کتاب الحیض،ج:۱،ص:۲۹۲،ط:)
وفی الفتاوى الهندية: (ومنها) حرمة الجماع. هكذا في النهاية والكفاية وله أن يقبلها ويضاجعها ويستمتع بجميع بدنها ما خلا ما بين السرة والركبة عند أبي حنيفة وأبي يوسف. هكذا في السراج الوهاج اھ (کتاب الحیض،ج:۱،ص:۳۹،ط:)
في الفتاوى الشامية :ولان غاية مسها لذكره انه استمتاع بكفها وهو جائز قطعا (إلى قوله )كما اذا وضعت فرجها على يده ، فهذا كما ترى تحقيق الكلام "البحر "لا اعتراض عليه فافهم اھ(1 /535)۔