اسلام علیکم شیخ، میری شادی کو10 جنوری کو ایک سال ہو جائے گا، لیکن میرے شوہر نے ابھی تک مجھ سے تعلقات نہیں بنائے۔ ان کے گھر والے بھی اس بات سے واقف ہیں۔ میں نے شروع ہی میں انکے گھر والوں کو بتا دیا تھا کہ میرا شرعی حق ادا نہیں ہوا۔ میرے شوہر کو نامردی کے مسائل ہیں اور کچھ ذہنی مسائل بھی ہیں۔ مگر وہ علاج کروانے سے انکار کرتے ہیں اور وہ جنسی تعلقات کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ پھر بھی میں اس رشتے کو نبھا رہی ہوں۔شادى شدہ هوتے هوئے بهى غيرشادى شده کى طرح ره رهى هوں
میرے شوہر نے مجھے دو لاکھ روپے مہر بھی نہیں دیا، جس میں سے ایک لاکھ فوراً ادا کرنا تھا۔ اب ایک سال ہونے والا ہے اور حالات وہی ہیں۔ انہوں نے مجھے نکاح نامہ بھی نہیں دیا۔
میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں، کیا میرے لئے اپنے شوہر کے ساتھ رہنا جائز ہے؟ مجھے رہنمائی فرمائیں اور میرے لئے دعا کریں۔
صورت مسئولہ میں اگر واقعۃً سائلہ کا شوہر نامردی کا شکار ہو جس کی وجہ سے وہ حقوقِ زوجیت کی ادائگی پر بالکل قادر نہ ہو اور سائلہ کیلئے عفت و پاکدامنی کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہورہی ہو تو اس کے لئے جائز ہے کہ ہمت کرتے ہوئے خاندان کے سامنے بات رکھے تاکہ وہ اس کے شوہر کو طلاق پر آمادہ کریں یا حق مہر کی معافی کے عوض خلع پر آمادہ کریں ،جبکہ اس کے شوہر پر بھی لازم ہے کہ بیوی کے حقوقِ زوجیت پر جب وہ قادر نہیں اور اس بناء پر بیوی علیحدگی چاہتی ہو تو وہ اسے طلاق یا خلع دیدے تاکہ وہ دوسری جگہ شادی کرکے عفت کے ساتھ زندگی گذار سکے ،تاہم اگر سائلہ صبر کرتے ہوئے اسی حال میں اپنے شوہر کے نکاح میں اس کے ساتھ رہنا چاہےاور کسی گناہ میں پڑنے کا اسے اندیشہ نہ ہو تو شرعاً یہ بھی جائز ہے،جبکہ اس کے شوہر پر لازم ہے کہ مہر معجل ایک لاکھ کی فی الفور ادائیگی کرے اور بقیہ مہر بیوی کےمطالبہ پر ادا کرنا لازم ہے۔
کما فی المعجم الکبیر للطبراني :عن عبد اللّٰه رضي اللّٰه عنه قال: یؤجل العنین سنةً، فإن وصل إلیها، وإلا فرّق بینهما ولها الصداق. اھ(باب فی الحکم العنین،ج:۹،ص:۳۴۳ ،رقم: ۹۷۰۶)
و فی في الدر المختار: (ولو وجدته عنينا) هو من لا يصل إلى النساء (الى قوله) (أجل سنة) (الى قوله) (فإن وطئ) مرة فبها (وإلا بانت بالتفريق) من القاضي إن أبى طلاقها (بطلبها) يتعلق بالجميع۔اھ (باب العنینن،ج:3،ص:496 م: سعید))
و فی المحیط البرهاني وإذا وجدت المرأة زوجها عنینًا فلها الخیار، إن شائت أقامت معه کذٰلک، وإن شائت خاصمته عند القاضي وطلبت الفرقة". اھ( کتاب النکاح، الفصل الثالث والعشرون : العنین،ج:، ۴ ص: ۲۳۸،ط: المجلس العلمي )