السلام علیکم ،عمرہ کی ادائیگی کے دوران مجھ سے بہت بڑی خطا ہوگئی کہ میں نے ناپاکی کی حالت میں طواف اور عمرہ ادا کرلیاکیونکہ میری دوران سفر طبعیت خرابہوچکی تھی اور طواف کی ادائیگی سے پہلے مجھ پر اور احرام پر نجاست لگ گئی کیونکہ میں پہلی دفعہ عمرہ ادا کرنے گیا تھا تومجھے معلوم نہیں تھا کہ مجھے اب کیا کرناچاہئے اور کہاں سے غسل کرنا چاہئے اور احرام پاک کرنا چاہئے نہ ہی مجھے وہاں پر موجود واش روم کا پتہ تھا تو میں نے اس حالت میں عمرہ ادا کرلیا اللہ پاک مجھے معاف فرمائے آمین ،اب میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہو کہ کیا صرف دم ادا کرنا کافی ہے؟ یا جو عمرہ میں نے ادا نہیں کیا اس عمرہ کی مجھےواپس نیت کرکےدوبارہ ادا کرنا ہوگا؟ مجھے اب آگے کیا کرنا ہے راہنمائی فرمائیں ،جزاک اللہ ۔
واضح ہو کہ طواف کیلئے پاکی واجب ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں جب سائل نے ناپاکی کی حالت میں عمرے کا طواف ادا کیا ہے تو سائل اگر فی الحال مکہ میں ہے تو پاکی کی حالت میں اس طواف اور سعی کا اعادہ کرے چنانچہ اس طرح کرنے سے سائل کے ذمہ سے دم ساقط ہو جائے گا اور اگر سائل واپس وطن لوٹ آیا ہو تو سائل پر حدود حرم میں بکرا وغیرہ کوئی جانور ذبح کرواکر دم ادا کرنا لازم ہوگا ،دوبارہ عمرہ کی ضرورت نہیں ۔
کما فی رد المحتار: ولو طاف للعمرة كله أو أكثره أو أقله ولو شوطا جنبا أو حائضا أو نفساء أو محدثا فعليه شاة لا فرق فيه بين الكثير والقليل والجنب والمحدث لأنه لا مدخل في طواف العمرة للبدنة ولا للصدقة،(ج:2،ص:551، مطبعِ: ایچ ایم سعید)
و فی الھدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی: ومن طاف لعمرته وسعى على غير وضوء وحل فما دام بمكة يعيدهما ولا شيء عليه" أما إعادة الطواف فلتمكن النقص فيه بسبب الحدث وأما السعي فلأنه تبع للطواف وإذا أعادهما لا شيء عليه لارتفاع النقصان "وإن رجع إلى أهله قبل أن يعيد فعليه دم" لترك الطهارة فيه ولا يؤمر بالعود لوقوع التحلل بأداء الركن إذ النقصان يسير وليس عليه في السعي شيء لأنه أتى به على أثر طواف معتد به وكذا إذا أعاد الطواف ولم يعد السعي في الصحيح(ج:1، ص:638، مطبع:مکتبۃ البشری)
وفی بدائع الصنائع: القياس أنه قد صح من مذهب أصحابنا أن الطهارة ليست بشرط لجواز الطواف، وإذا لم تكن شرطا فقد وقع التحلل بطوافه، (ج 2 ،219)