اگر کوئی آدمی وِگ یا ہیئر پیچ لگاتا ہے اور اسے ٹیپ یا گلو کے ذریعے اپنے سر پر چپکاتا ہے، اور وہ شادی شدہ ہے اور روزانہ غسل کرنا چاہتا ہے، تو یہ دردناک اور وقت طلب عمل ہوتا ہے کہ ٹیپ یا گلو ہٹائیں اور نیا لگا دیں. سوال یہ ہے کہ کیا ٹیپ یا گلو کے ساتھ پیچ کو لگائے رکھنا غسل کے دوران جائز ہے؟ کیا اس کے ساتھ غسل ممکن ہے؟
پلاسٹک سرجری کے ذریعہ مصنوعی بال لگوانا جائز ہے بشرطیکہ وہ کسی دوسرے انسان یا خنزیر کے بال نہ ہوں، ان کے علاوہ کسی دوسرے جانور یا اون و غیرہ کے بنے ہوئے بالوں کو لگانا بھی شرعاً جائز اور درست ہے جبکہ بال اگر مستقل لگے ہوں اس طور پر کہ بغیر سرجری کے عمل کے ان کا اُتارنا ممکن نہ ہو بلکہ مستقل طور پر سر کے ساتھ پیوست ہوں، تو وضو اور غسل میں ان کا حکم اصل بالوں کا ہوگا ان پر مسح کرنا اور ان کی جڑوں تک پانی پہنچانا کافی ہوگا لیکن اگر یہ بال اُتر سکتے ہوں تو ان کو اُتار کر اصل جلد تک پانی پہنچانا اور مسح کرنا لازم ہوگا۔
کما فی تکملۃ فتح الملھم: و قد اختلف العلماء فی تفصیل ھذا الحکم علی اقوال:(1) یحرم الوصل مطلقاً سواء کان بشعر آدمی أو شعر غیر آدمی(الی قولہ)(2)الوصل بشعر الآدمی حرام، و کذلک الوصل بشعر نجس من غیر الآدمی، و أما الشعر الطاھر من غیر الآدمی فیجوز الوصل بہ(الی قولہ)والذی یظھر من کتب الحنفیۃ أن الراجح عندھم القول الثانی، و ھو تخصیص الحرمۃ بشعر الآدمی، قال فی الفتاوی الھندیۃ 5: 357: " و وصل الشعر بشعر الآدمی حرام، سواء کان شعرھا أو شعر غیرھا، (الی قولہ) و لا بأس للمرأۃ أن تجعل فی قرونھا و ذوائبھا شیئاً من الوبر الخ (باب تحریم فعل الواصلۃ و المستوصلۃ، ج: 4، ص: 191، ط: مکتبۃ دار العلوم کراتشی)۔
و فی الدر المختار: (ويجب) أي يفرض (غسل) كل ما يمكن من البدن بلا حرج مرة كأذن و (سرة وشارب وحاجب و) أثناء (لحية) وشعر رأس ولو متبلدا لما في - {فاطهروا} [المائدة: 6]- من المبالغة (وفرج خارج) لأنه كالفم لا داخل؛ لأنه باطن، ولا تدخل أصبعها في قبلها به يفتي. (لا) يجب (غسل ما فيه حرج كعين) وإن اكتحل بكحل نجس (وثقب انضم و) لا (داخل قلفة) يندب هو الأصح قاله الكمال، وعلله بالحرج فسقط الإشكال. وفي المسعودي إن أمكن فسخ القلفة بلا مشقة يجب وإلا لا الخ (فرض الغسل، ج: 1، ص: 152-153، ط: سعید )۔