میاں بیوی کے جسم کے پوشیدہ حصے کون سے ہیں ، میاں دونوں ایک دوسرے کی شرمگاہوں کو ہاتھ لگا سکتے ہیں اور چھو سکتے ہیں، کیا میاں بیوی ایک دوسرے کی شرم گاہوں کو چومنا یا بوسہ لینا جائز ہے اگر جائز ہے تو چومنا اور بوسہ لینا کسے کہتے ہیں
مردانہ طاقت کو بڑھانے کے لیے کوئی آسان سا وظیفہ بتا دیں جس سے مجھے اپنی بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنے میں آسانی ہو جائے۔
واضح ہو کہ حیض و نفاس کے علاوہ عام دنوں میں میاں بیوی کا ایک دوسرے کے پوشیدہ حصوں کو بلا حائل چھونا شرعاً جائز اور درست ہے، البتہ ایک دوسرے کے اعضا مخصوصہ کو منہ میں لینا اور چاٹنا وغیرہ طبع سلیم کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناپسندیدہ اور خلاف فطرت ہے، اس سے احتراز چاہیے،جبکہ مردانہ طاقت کے سلسلہ میں مشورہ کرنے کے لیے کسی مستند معالج سے رابطہ کرے۔
وفي الفتاوى الهندية: في النوازل إذا أدخل الرجل ذكره في فم امرأته قد قيل يكره وقد قيل بخلافه كذا في الذخيرة. (5/ 372)
وفی ردالمحتار:تحت قولہ(والاولی ترکہ) وعن أبي يوسف سألت أبا حنيفة عن الرجل يمس فرج امرأته، وهي تمس فرجه ليتحرك عليها هل ترى بذلك بأسا قال: لا وأرجو أن يعظم الأجر ذخيرة الخ۔ (فصل فی النظروالمس،ج:6،ص:367،ط: سعید)۔
وفی ردالمحتار: ويباح ما وراءه، وقيل يباح مع الإزار. اه وهو مفقود في حقه فحل لها الاستمتاع به ولأن غاية مسها لذكره أنه استمتاع بكفها وهو جائز قطعا وهو تحقيق وجيه؛ لأنه يجوز له أن يلمس بجميع بدنه حتى بذكره جميع بدنها إلا ما تحت الإزار فكذا هي لها أن تلمس بجميع بدنها إلا ما تحت الإزار جميع بدنه حتى ذكره الخ۔ (باب الحیض،ج:1،ص:292،ط: سعید)۔