کیا شوہر بیوی کے جسم کے تمام تر جنسی اعضا کو غسل خانے میں غسل کے دوران صابن سے صفائی کر سکتا ہے کیا بیوی شوہر کے جسم کے تمام تر جنسی اعضا کو غسل خانے میں غسل کے دوران صابن سے صفائی کر سکتی ہے ؟ اگر کوئی شرعی عذر بھی نہ ہو تو شوہر کی فرمائش پر بیوی شوہر کی شرمگاہ کی صفائی کر سکتی ہے؟
واضح ہو کہ میاں بیوی کا ایک دوسرے سے شرعاً کوئی پردہ نہیں اور وہ دونوں ایک دوسرے کے جسم کے کسی بھی حصہ کو بلا حائل چھو اور دیکھ سکتے ہیں، لہذا میاں بیوی کا ایک ساتھ غسل کرنا اور ایک دوسرے کے مخصوص اعضاء کو دھونا شرعاً جائز ہےلیکن بلا ضرورت میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرم گاہ کو دیکھنا پسندیدہ نہیں ہے اس لئے اس سے احتیاط بہتر ہے۔
کما فی الھندیۃ: وما حل النظر إليه حل مسه ونظره وغمزه من غير حائل الخ (کتاب الکراھیۃ، ج: 5، ص: 368، ط: ماجدیۃ)۔
و فیھا ایضاً: أما النظر إلى زوجته ومملوكته فهو حلال من قرنها إلى قدمها عن شهوة وغير شهوة وهذا ظاهر إلا أن الأولى أن لا ينظر كل واحد منهما إلى عورة صاحبه، كذا في الذخيرة الخ (کتاب الکراھۃ، ج: 5، ص: 367، ط: ماجدیۃ)۔
و فی رد المحتار: و عن أبي يوسف سألت أبا حنيفة عن الرجل يمس فرج امرأته، وهي تمس فرجه ليتحرك عليها هل ترى بذلك بأسا قال: لا وأرجو أن يعظم الأجر ذخيرة (قوله لأنه يورث النسيان) ويضعف البصر الخ (فصل فی النظر و المس، ج: 6، ص: 367، ط: سعید)۔