ایک لڑکی کی نئی شادی ہوئی ہے۔ اس نے اپنے شوہر سے خلع کا مطالبہ کیا، شوہر نے کہامیں تمہیں 2 بار خلع دیتا ہوں، یہ تمہاری مرضی ہےلیکن کوئی باقاعدہ خلع کا ایجاب و قبول نہیں ہوا، نہ حقِ مہر یا کوئی مال واپس کیا گیا۔اس کے بعد شوہر اور بیوی نے باہمی رضامندی سے ہمبستری بھی کی۔بعد میں شوہر نے کہا:“میں تمہاری مرضی سے3بار خلع دیتا ہوں”لیکن لڑکی نے کوئی خلع قبول نہیں کیا اور نہ کوئی مال واپس کیا۔صرف یہی الفاظ بولے گئے۔سوال یہ ہےکیا ان الفاظ سے خلع واقع ہوگیا؟ کیا نکاح ختم ہوگیا ہے؟کیا یہ طلاق شمار ہوگی؟ جواب کے لیے براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہ حنفی کے مطابق اس صورت کا شرعی حکم بتایا جائے کہ آیا شوہر کے یہ الفاظ خلع کے الفاظ شمار ہوتے ہیں یا نہیں؟ بغیر قبول و ایجاب اور بغیر عدت و مال کی واپسی کے کیا خلع واقع ہوسکتا ہے؟ شوہر اور بیوی کے درمیان بعد میں ہونے والی ہمبستری کا حکم کیا ہے؟ کیا نکاح ابھی برقرار ہے یا ختم ہوچکا ہے؟لڑکی اور لڑکے دونوں چاہتے ہیں کہ اس کا شرعی فیصلہ واضح طور پر معلوم ہوجائے۔
صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے بیوی کوخلع کے مطالبہ پر پہلی دفعہ ،میں تمہیں 2 بار خلع دیتا ہوں" کے الفاظ کہے تو اس سےخلع متحقق ہوگیا (خواہ الگ سے ایجاب وقبول یامہروغیرہ کی واپسی کامعاملہ نہ ہواہو)اور ایک طلاق بائن کے ذریعے دونوں کا نکاح ختم ہوگیا،لہذااس کے بعدبلاتجدیدنکاح ان کاہمبستری کرناشرعاًناجائزاورحرام تھا،جس پردونوں کوچاہیےکہ بصدق دل توبہ واستغفارکےساتھ فورًاایک دوسرے سے علیحدگی اختیارکریں ،جبکہ عورت عدت گزارنے کے بعددوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزادہے۔ البتہ اگر دونوں میاں بیوی باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر تقر ر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب وقبول کرکےساتھ رہ سکتے ہیں، تاہم اس شخص کو دوبارہ فقط دوطلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا ، اس لیےآئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔ جبکہ اس کے بعدشوہر کے مذکورالفاظ” میں تمہاری مرضی سے 3 بارخلع دیتا ہوں”بیوی کے سابقہ الفاظ کی وجہ سے نکاح سے خارج ہوجانے کی وجہ سےشرعاغیرمعتبرہوگئےتھے،چنانچہ ان الفاظ سے عورت پرمزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
کما فی المبسوط للسرخسی: قال: وإذا اختلعت المرأة من زوجها فالخلع جائز، والخلع تطليقة بائنة عندنا الخ (باب الخلع، ج: 6، ص 308 ط: دار المعرفۃ)۔
وفی البحر الرائق: وإنما قیدنا بالمفاعلۃ لأنہ لو قال خلعتک ناویا وقع بائنا غیر مسقط (إلی قولہ) (قولہ الواقع بہ وبالطلاق علی مال طلاق بائن) أی بالخلع الشرعی أما الخلع فلقولہ ﷺ الخلع تطلیقۃ بائنۃ ولأنہ یحتمل الطلاق حتی صار من الکنایات والواقع بالکنایۃ بائن الخ (باب الخلع، ج: 4، ص: 71، ط: ماجدیہ)۔
وفی المبسوط للسرخسی: قال: ولو قال بعد الخلع أو التطليقة البائنة لها في عدتها أنت طالق عندنا يقع الطلاق عليها، وعند الشافعي رضي الله تعالى عنه لايلحق البائن الصريح كما لا يلحقه بائن حتى لو قال لها بعد الخلع أنت بائن لا يقع الطلاق وإن نوى، فكذلك إذا قال أنت طالق(إلی قولہ) والفرق بين قوله أنت طالق وبين قوله بائن ما ذكر محمد رحمه الله تعالى في الكتاب وقد طوله، وحاصل ما قال أن قوله بائن لا يعمل إلا بارادة الفرقة أو رفع النكاح، وبعد البينونة لا يتحقق هذا، فأما قوله طالق عامل بنفسه من غير إرادة فرقة أو رفع نكاح، فيشترط لصحته قيام المحل. توضيح الفرق أن قوله بائن عامل في حقيقة موجبه، وهو قطع الوصلة، ووصلة النكاح بينهما منقطعة، ولا أثر لهذا اللفظ في قطع وصلة العدة، فخلى عن موجبه، فأما موجب الطلاق فهو رفع الحل كما بينا، والإيقاع بعد البينونة عامل في موجبه؛ لأنها تحرم به إذا تم العدد ثلاثا الخ (باب ماتقع بہ الفرقۃ مما یشبہ الطلاق،ج: 6، ص: 151، ط: دار المعرفۃ۔بیروت)۔