محترم جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم
میرا سوال یہ ہے کہ میں نے مورخہ 2014 میں عدالت سے خلع لی ہے، آپ ہماری رہنمائی کریں کہ میری خلع شرعی طور پر ہو چکی ہے یا نہیں؟ اسکی وجوہات یہ ہیں : 1 : یہ کہ میرے شوہر نے شادی کے چار دن بعد ہی گالم گلوچ کرنا شروع کر دیا اور کچھ عرصے کے بعد نان نفقہ دینا چھوڑ دیا اور بار بار کہتا کہ اپنے باپ سے پیسے لے کر آؤ ، پہلے سال ہی بیٹا پیدا ہوا ، چھوٹی چھوٹی باتوں پر چیختا چلاتا اور جب بچے کے لئے بھی کچھ مانگتی تو الٹا دو دفعہ تو مارا بھی ، گھر والے بھی بچانے نہیں آئے کہ یہ تو میاں بیوی کا معاملہ ہے، ایک دفعہ تو اتنا مارا کہ بچہ بھی گود سے لے لیا اور اس کو مارنے لگا کہ میں اس کو جان سے مار کر تجھ پر الزام لگادوں گا، کچھ عرصے تک یہی معاملہ چلتا رہا اور میرے گھر والوں تک بھی پہنچا، لیکن پھر وہ معافی مانگ لیتا کہ اب نہیں ماروں گا، تو صلح کروادی جاتی، لیکن جب بات بچے تک آگئی تو میں اپنے ماں باپ کے پاس چلی گئی اور میرے ابو نے خلع کا کیس کیا ، کیونکہ وہ شخص وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جنونی ہوتا جارہا تھا، اب رہنا مشکل ہو گیا تھا، اس کے گھر والے بھی اس کا ساتھ دیتے، کبھی وہ کورٹ میں آیا اور کبھی نہیں آیا، عدالت نے ہم دونوں کو ایک دفعہ اکھٹا بلایا کہ اگر چاہیں تو صلح کر لیں، لیکن اس نے جج کے سامنے بھی کہا کہ میں نے اس کو نہیں رکھنا اور میں نے بھی کہا کہ میں نہیں رہنا چاہتی ، کیس سے پہلے امی ابو نے اس کو سمجھانے کیلئے بلایا کہ تم مارا پیٹا نہ کرو اور ہمارے ساتھ کرایہ کا گھر لے لو، تو اس نے جواب دیا کہ اگر آپ کے ساتھ رہوں گا تو بھی آپ کی بیٹی کو ماروں گا جب مجھے مارنے کا دل چاہے گا، جج نے اس کو دو تین پیشی پر بلایا، مگر وہ نہیں آیا تو عدالت نے ان تمام وجوہات کو دیکھتے ہوئے خلع دے دی، میرا بیٹا پندرہ سال کا ہو گیا ہے ، عدالت نے جو بچے کا نان نفقہ مقرر کر دیا تھا، وہ ایک دفعہ دینے کے بعد کبھی بھی نہیں دیا اور کبھی بھی رابطہ نہیں کیا، مہربانی فرما کر ان معاملات کا جائزہ لیں، تا کہ میں دوسرا نکاح کر سکوں۔ شکریہ
سوال کے ساتھ منسلک عدالتی آرڈر اگر بمطابق اصل ہو، بایں طور کہ سائلہ کے عدالت میں مطالبۂ خلع کے جواب میں اس کے شوہر نے اپنی جانب سے عدالت میں جج کے سامنے سائلہ کو رکھنے سے انکار کیا ہو اور منسلک آرڈر کے صفحہ تین پر واقعۃً یہ کہا ہو کہ ” یہ رقم اس کو واپس دلوائی جائے، اگر درخواست گزار کو خلع دی جاتی ہے“ اور اس کے بعد باقاعدہ پری ٹرائل کے دوران اس کا شوہر عدالت حاضر نہ ہوا ہو ، اس کے جواب میں عدالت نے مذکور آرڈر جاری کیا ہو تو اس آرڈر کی وجہ سے سائلہ اور اس کے شوہر کے درمیان خلع واقع ہو چکی ہے، اور سائلہ اور اس کے شوہر کا ایک طلاقِ بائن کے ذریعے نکاح ختم ہو چکا ہے، اب سائلہ عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنےمیں آزاد ہے۔
كما فی احكام القرآن للجصاص: قال انهما لا يجوز خلعهما الا برضى الزوجين فقال اصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا الا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان و انما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة و الآخر وكيل الزوج فی الخلع (الى قوله) و كيف يجوز للحكمين أن يخلعهما بغير رضاه و يخرج المال عن ملكها الخ (ج : 3 ، ص : 153 ، ط: سهیل اکیڈمی)۔
و فى بدائع الصنائع : و أما ركنه فهو الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة و لا يستحق العوض بدون القبول الخ (كتاب الطلاق، ج : 3 ، ص : 145 ، ط: ایچ-ایم- سعید)۔
و فی التاتارخانية: الخلع عقد يفتقر الى الايجاب و القبول يثبت الفرقة و يستحق عليها العوض الخ (كتاب الخلع ، ج : 5 ، ص : 5 ، ط : رشیدیۃ)۔
وفی الدر المختار : فانه لغو کما فی الفصول الخ
وفي رد المحتار : تحت : (قوله فانه لغو) (الی قوله) قلت: قدمنا الفرق هناك، وهو أن الخلع بائن وهو لايلحق مثله، والطلاق بمال صريح فيلحق الخلع". (کتاب الطلاق، باب الخلع، ج: 3 ، ص: 439 ، ط: سعيد)ـ
وفی الهداية : واذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث: فله ان يتزوجها فی العدة، وبعد انقضائها، لان حل المحلية باق: لان زواله معلق بالطلقة الثالثة ، فينعدم قبله الخ (فصل فيما تحل به المطلقة ، ج: 2 ، ص: 92 ،ط: انعامیۃ)۔