میری شادی میرے والدین نے میری سگی خالہ کے بیٹے مسمی ....کروا دی، جو کہ ہالینڈ کی شہریت رکھتا ہے، میری شادی مورخہ پانچ جنوری 2024 کو کراچی میں ہوئی، شادی کے بعد دس دن تک دعوتیں چلیں اور پھراس نے جلد بلوانے کا وعدہ کر کے واپس ہالینڈ چلا گیا، واپس جانے کے بعد کچھ دنوں تک فون پر اچھے طریقے سے بات چیت ہوتی رہی، پھر جب ہالینڈ بلانے کی بات کی تو موڈ بدل گیا، اور بہانے بنانے شروع کر دیے، اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ موصوف عادی شرابی ہیں، جو کہ ان کی دانست میں کوئی عیب یا گناہ کی بات نہیں (استغفر اللہ)، نہ ہی کوئی نوکری یا پیشہ اختیار کیا ہوا ہے، بس بیروز گاری، الاؤنس پر ہی گزارا ہے، اس پر مستزاد دماغی عوارض کا بھی علاج جاری ہے، انہی بہانے بازیوں میں ڈیڑھ سال کا عرصہ گزرنے پر اپنے والدین کے مشورے پر خلع لینے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔ عدت کی مدت کیا ہو گی؟ اس کے علاوہ حق مہر معجل تھا، جو کہ نکاح نامہ میں درج ہے، خلع کی صورت میں اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کی صحت کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، جبکہ عدالتی یکطرفہ خلع میں عموماً یہ شرط مفقود ہونے کی وجہ سے ایسی خلع کی ڈگری شرعاً معتبر نہیں ہوتی، بلکہ اس ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجود نکاح بدستور قائم رہتا ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ نے شوہر کی اجازت و رضامندی کے بغیر عدالت سے یکطرفہ طور پر خلع کی ڈگری حاصل کی ہو تو وہ شرعاً معتبر نہ ہوگی، اور اس سے سائلہ کا اپنے شوہر سے نکاح ختم نہ ہوگا، جبکہ سائلہ کی جانب سے جمع کروائی گئی عدالتی فیصلہ کی منسلکہ کاپی میں علیحدگی کی کوئی شرعی قابلِ خلع یا فسخِ نکاح کی وجہ بیان نہیں کی گئی جس کی بنیاد پر اس فیصلہ کو فسخِ نکاح پر محمول کرنا ممکن ہو، لہذا مذکور فیصلہ سے خلع یا فسخِ نکاح دونوں میں سے شرعاً کوئی بھی متحق نہیں ہوا ہے، ان دونوں کا نکاح اس فیصلہ کے باوجود شرعاً برقرار ہے۔ البتہ اگر میاں بیوی کے درمیان نباہ ممکن نہ ہو تو سائلہ کو چاہیے کہ وہ خاندان کے بڑوں کے ذریعے شوہر کو طلاق یا خلع پر رضامند کر کے اس سے علیحدگی اختیار کرے۔
كما فی احكام القرآن للجصاص: قال انهما لا يجوز خلعهما الا برضى الزوجين فقال اصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا الا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان و انما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة و الآخر وكيل الزوج فی الخلع (الى قوله) و كيف يجوز للحكمين أن يخلعهما بغير رضاه و يخرج المال عن ملکھا الخ ( ج: 3، ص: 153، ط: سہیل اکیڈمی)۔
و فى بدائع الصنائع : و أما ركنه فهو الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة و لا يستحق العوض بدون القبول الخ (كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 145، ط: ایچ-ایم-سعید)۔
و فی التاتارخانية: الخلع عقد يفتقر الى الايجاب و القبول يثبت الفرقة و يستحق عليها العوض الخ (كتاب الخلع، ج: 5، ص: 5، ط: رشیدیۃ)۔